وزیراعظم شہباز شریف نے صنعت اور زراعت کے شعبوں کے لیے تین سالہ بجلی پیکیج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت مقررہ بنیادی کھپت سے زائد بجلی 22.98 روپے فی یونٹ کی خصوصی شرح پر فراہم کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صنعتی پیداوار، زرعی سرگرمی اور بجلی کے اضافی استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، تاکہ موجودہ پیداواری صلاحیت کو زیادہ مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکے۔

اعلان کے مطابق رعایتی شرح ہر صارف کی پوری موجودہ کھپت پر لاگو کرنے کے بجائے ایک مقررہ بنیاد سے زائد استعمال کے لیے ہوگی۔ اس ڈیزائن کا مقصد ایسے صارفین کو ترغیب دینا ہے جو اپنی پیداوار بڑھانے کے لیے اضافی بجلی استعمال کر سکتے ہیں۔ پیکیج تین سال کے لیے پیش کیا گیا ہے، جس سے صنعتوں اور زرعی صارفین کو نسبتاً طویل مدت کی قیمت کا اشارہ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

پاکستان کی صنعت طویل عرصے سے بجلی اور گیس کی بلند قیمتوں کو برآمدی مسابقت اور پیداواری لاگت کا اہم مسئلہ قرار دیتی رہی ہے۔ دوسری جانب بجلی کے نظام میں بعض اوقات دستیاب پیداواری صلاحیت کے مقابلے میں طلب کم رہنے سے فکسڈ لاگت محدود یونٹس پر تقسیم ہوتی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اضافی طلب پیدا ہونے سے نظام کی موجودہ صلاحیت کے استعمال میں بہتری اور معاشی سرگرمی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

زرعی شعبے کے لیے بجلی کی قیمت آبپاشی، ٹیوب ویل اور دیگر مشینی سرگرمیوں کی لاگت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ خصوصی شرح سے اہل زرعی صارفین کے لیے اضافی بجلی استعمال کرنے کی لاگت کم ہو سکتی ہے، لیکن حتمی فائدہ اہلیت کے معیار، بنیادی کھپت کے تعین، تقسیم کار کمپنیوں کے نفاذ اور دوسرے چارجز کی تفصیلات پر منحصر ہوگا۔

اعلان کو مکمل طور پر نافذ شدہ بلنگ نظام سمجھنے سے پہلے متعلقہ نوٹیفکیشن، ریگولیٹری منظوری اور عملی شرائط دیکھنا ضروری ہوگا۔ 22.98 روپے فی یونٹ کی شرح اضافی کھپت کے پیکیج کا مرکزی اعلان ہے، جبکہ ٹیکس، سرچارج، بنیادی مدت اور اہل صارفین کی تفصیلی شرائط حتمی دستاویزات سے واضح ہوں گی۔ حکومت اس اقدام کو پیداواری شعبوں کی لاگت کم کرنے اور بجلی کی طلب بڑھانے کی کوشش کے طور پر پیش کر رہی ہے۔