اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کے کوٹوں کی تقسیم کے لیے شفاف اور مسابقتی نیلامی کا نیا طریقہ متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ اس نظام کا مقصد شعبے میں طویل عرصے سے موجود اجارہ داری ختم کرنا اور مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کی تقسیم کو واضح قواعد کے تحت لانا ہے۔

ڈان کی رپورٹ اور وزیراعظم آفس کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق نئے نظام میں مقامی ایل پی جی مناسب نگرانی کے تحت مسابقتی نیلامی کے ذریعے پیش کی جائے گی۔ ایل پی جی درآمد کرنے والی کمپنیوں کو بھی مقررہ ضابطوں اور طریقہ کار کی پابندی کرنا ہوگی۔ وزیراعظم کے مطابق شفاف نیلامی سے حاصل ہونے والی آمدن قومی خزانے میں جائے گی اور بعد ازاں اسے عام شہریوں کے لیے سبسڈی اور ریلیف کی فراہمی میں استعمال کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں ایل پی جی کی دستیابی اور قیمتوں پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے رسد متاثر ہوئی اور بعض علاقوں میں سلنڈر سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ وزیراعظم نے اپنی گفتگو میں بلند عالمی پٹرولیم قیمتوں اور سمندری راستوں میں رکاوٹوں کو اہم عوامل قرار دیا، جبکہ حکومت موسم سرما کی ضروریات پوری کرنے کے لیے توانائی کی صورتحال کا وقفے وقفے سے جائزہ لے رہی ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ متعلقہ حکام ہر دو سے تین روز بعد توانائی کی ضروریات، ہنگامی انتظامات اور ادارہ جاتی رابطے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ سردیوں میں قلت کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔ کابینہ اجلاس میں پٹرولیم شعبے سے متعلق اقدامات کا بھی ذکر ہوا اور حکومت نے کہا کہ صارفین پر عالمی قیمتوں کا مکمل بوجھ منتقل ہونے سے روکنے کے لیے ریفائنریوں سمیت متعلقہ فریقوں سے رابطہ کیا گیا ہے۔

حکومت کے مطابق ایل پی جی نیلامی کا نیا نظام صرف کوٹہ تقسیم کرنے کا انتظامی طریقہ نہیں بلکہ قیمت، رسد اور سرکاری آمدن میں شفافیت بڑھانے کی کوشش ہے۔ تاہم اس نظام کی عملی کامیابی کا انحصار نیلامی کے تفصیلی قواعد، نگرانی، درآمدی کمپنیوں کی تعمیل اور اس بات پر ہوگا کہ حاصل ہونے والی آمدن کو صارفین کے ریلیف تک کس انداز میں منتقل کیا جاتا ہے۔