اسلام آباد: یورپی منڈیوں میں پاکستان کو جی ایس پی پلس کے تحت ترجیحی رسائی حاصل ہونے کے باوجود رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں یورپی ممالک کو مجموعی برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مرتب کردہ اعداد کے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران یورپ کو برآمدات 1.84 فیصد کم ہو کر 2.350 ارب ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ حجم 2.394 ارب ڈالر تھا۔

اعداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف یورپی خطوں میں پاکستانی برآمدات کا رجحان یکساں نہیں رہا۔ شمالی یورپ کو برآمدات 21.07 فیصد بڑھ کر 236.321 ملین ڈالر ہوئیں، جو ایک سال پہلے 195.191 ملین ڈالر تھیں۔ جنوبی یورپ کو برآمدات بھی 5.26 فیصد اضافے کے ساتھ 879.896 ملین ڈالر تک پہنچیں۔ اسپین کو برآمدات میں نمایاں 17.78 فیصد اضافہ ہوا اور ان کی مالیت 451.244 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

اس کے برعکس اٹلی کو پاکستانی برآمدات 8.49 فیصد کم ہو کر 298.731 ملین ڈالر رہیں۔ مشرقی یورپ میں بھی مجموعی برآمدات 15.05 فیصد سکڑ کر 168.761 ملین ڈالر ہو گئیں۔ مغربی یورپ، جو یورپی یونین میں پاکستانی مصنوعات کی بڑی منڈیوں پر مشتمل ہے، میں برآمدات 8.51 فیصد کم ہو کر 1.065 ارب ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 1.164 ارب ڈالر تھیں۔

ملک وار اعداد میں جرمنی کو برآمدات 12.77 فیصد کم ہو کر 389.116 ملین ڈالر اور نیدرلینڈز کو 3.07 فیصد کمی کے ساتھ 370.005 ملین ڈالر رہیں۔ فرانس کو برآمدات معمولی 0.47 فیصد گھٹ کر 136.030 ملین ڈالر ہوئیں، جبکہ بیلجیئم کو برآمدات 7.57 فیصد کمی کے بعد 127.431 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ یونان کو برآمدات میں 3.52 فیصد اضافہ ہوا۔

بریگزٹ کے بعد برطانیہ الگ تجارتی تناظر رکھتا ہے۔ پہلی سہ ماہی میں برطانیہ کو پاکستانی برآمدات 6.64 فیصد بڑھ کر 612.305 ملین ڈالر تک پہنچیں، جو ایک سال پہلے 574.171 ملین ڈالر تھیں۔ اس طرح مجموعی یورپی کمی کے باوجود بعض اہم منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی طلب میں اضافہ بھی سامنے آیا ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور توانائی کی بلند لاگت یورپی صارفین کی قوت خرید اور درآمدی طلب پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔ رپورٹ میں بھارت کو یورپی یونین کی ترجیحی منڈی رسائی کو بھی پاکستان کے ٹیکسٹائل سمیت برآمدی شعبوں کے لیے مسابقتی عنصر قرار دیا گیا ہے۔ یہ عوامل مستقبل کی برآمدی کارکردگی کے لیے خطرات ہیں، تاہم ان کے حتمی اثرات آنے والے تجارتی اعداد سے واضح ہوں گے۔

یورپ پاکستان کی اہم برآمدی منڈیوں میں شامل ہے اور جی ایس پی پلس سہولت پاکستانی مصنوعات، بالخصوص ٹیکسٹائل، کو ترجیحی رسائی فراہم کرتی ہے۔ پہلی سہ ماہی کے اعداد پالیسی سازوں کے لیے اس لیے اہم ہیں کہ مجموعی کمی کے ساتھ مختلف خطوں میں واضح فرق دکھائی دے رہا ہے، جس سے برآمدی حکمت عملی میں منڈی اور مصنوعات کی سطح پر زیادہ ہدفی اقدامات کی ضرورت سامنے آتی ہے۔