اسلام آباد: حکومت نے برآمد کنندگان اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کی مالی رسائی بہتر بنانے کے لیے طویل مدتی فنانسنگ سہولت تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کاروباری فنانس میں حائل رکاوٹیں کم کرنے اور ایس ایم ای شعبے کی ترقی میں مدد دینے پر کام کر رہی ہے۔
وزیر مملکت کے مطابق نئی سہولت کے تحت برآمد کنندگان مشینری اور آلات خریدنے کے لیے قرض حاصل کر سکیں گے۔ اعلان کردہ ساخت میں پہلے دو سال کے لیے شرح دو فیصد اور اس کے بعد اگلے آٹھ سال کے لیے پانچ فیصد رکھی گئی ہے۔ اس طرح سہولت کا مقصد سرمایہ کاری کے ابتدائی مرحلے میں مالی لاگت کم کرنا اور کاروباروں کو پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے نسبتاً طویل مدت کی فنانسنگ فراہم کرنا ہے۔
بلال اظہر کیانی نے ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کا بھی حوالہ دیا، جس کے تحت اہل برآمد کنندگان کو برآمدی پیداوار کے لیے درکار بعض inputs ڈیوٹی کے بغیر درآمد کرنے کی سہولت حاصل ہے۔ حکومت ان اقدامات کو برآمدی لاگت کم کرنے، صنعت میں نئی مشینری کی سرمایہ کاری بڑھانے اور عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بہتر بنانے کی کوشش کا حصہ قرار دے رہی ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پائیدار اور جامع اقتصادی نمو کے لیے برآمدات میں مستقل اضافہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق معیشت کو بار بار تیز نمو اور پھر ادائیگیوں کے دباؤ کے باعث سست روی کے چکر سے نکالنے کے لیے بیرونی آمدن کے مستحکم ذرائع پیدا کرنا ہوں گے۔ ایس ایم ایز کو رسمی مالیاتی نظام سے قرض تک بہتر رسائی دینا بھی اسی مقصد سے منسلک ہے، کیونکہ چھوٹے کاروبار روزگار اور سپلائی چین کا اہم حصہ ہیں مگر عموماً سرمایہ حاصل کرنے میں بڑی کمپنیوں کے مقابلے میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
سرکاری بیان میں سہولت کی مجموعی مالی حد، اہلیت کی تمام شرائط، شریک بینکوں یا ضمانتی انتظام کی مکمل تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ اس لیے اعلان کردہ شرحوں کو ایک پالیسی فریم ورک کے طور پر دیکھا جانا چاہیے اور کاروباروں کے لیے عملی دستیابی متعلقہ قواعد و نفاذ کے بعد واضح ہوگی۔ اگر فنانسنگ بروقت اور شفاف انداز میں دستیاب ہوتی ہے تو نئی مشینری، پیداواری استعداد اور برآمدی تنوع میں سرمایہ کاری کی گنجائش بڑھ سکتی ہے۔

