اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت فیول ریلیف پروگرام کے جائزہ اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی پر مبنی پٹرول سبسڈی اسکیم میں رجسٹرڈ شہریوں کی تعداد ایک کروڑ 55 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ وزیراعظم نے پروگرام کی پیش رفت اور نگرانی کے نظام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو مستحق صارفین کے لیے سہولت برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
سرکاری بریفنگ کے مطابق رجسٹرڈ افراد میں تقریباً ایک کروڑ 50 لاکھ 60 ہزار موٹر سائیکل مالکان اور 800 سی سی تک انجن رکھنے والی گاڑیوں کے چار لاکھ 49 ہزار مالکان شامل ہیں۔ پروگرام کے تحت چھ کروڑ 31 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ سبسڈی ٹوکن جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے پانچ کروڑ 94 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ استعمال ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد پروگرام کے وسیع استعمال کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم ان کی آزادانہ آڈٹ رپورٹ اس اجلاس میں پیش نہیں کی گئی۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 4 نومبر 2026 تک فیول سبسڈی اسکیم کے تحت 28.6 ارب روپے کی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں۔ صارفین اور پٹرول پمپس کے لیے الگ کال سینٹر بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ رجسٹریشن، سبسڈی کے استعمال اور شکایات سے متعلق معلومات فراہم کی جا سکیں۔ وزیراعظم نے رجسٹریشن اور ادائیگی کے طریقہ کار کو آسان بنانے کو مستحق افراد کی بڑھتی شرکت سے جوڑا۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ جو پٹرول پمپس اسکیم کے رجسٹرڈ مستحقین کو سہولت فراہم نہ کریں ان کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ یہ ہدایت پروگرام کے نفاذ میں ریٹیل سطح پر تعاون یقینی بنانے کے لیے دی گئی ہے۔ لائسنس کی منسوخی عملی طور پر متعلقہ ضابطوں، ریگولیٹری کارروائی اور خلاف ورزی کے ثبوت کے تحت ہوگی، اس لیے وزیراعظم کی ہدایت کو فوری طور پر کسی مخصوص پمپ کا لائسنس منسوخ ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
وزیراعظم نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی ٹیم کی جانب سے تیار کردہ مانیٹرنگ میکانزم اور ڈیش بورڈ کو بھی سراہا۔ حکومت پروگرام کو ٹیکنالوجی کے ذریعے ہدفی سبسڈی فراہم کرنے کی مثال قرار دے رہی ہے۔ اس کی طویل مدتی مالی پائیداری، مستحقین کی درست شناخت اور غلط استعمال کی روک تھام کا حتمی جائزہ مکمل مالی اور انتظامی اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

