واشنگٹن: وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نجی سرمایہ کاری کے لیے قانونی ماحول بہتر بنانے کی غرض سے خصوصی کمرشل عدالتوں، تنازعات کے ثالثی نظام اور نئے آربیٹریشن ایکٹ پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے ورلڈ بینک گروپ کے صدر دفتر میں منعقدہ گلوبل لا، جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ فورم 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ان اصلاحات کی تفصیلات پیش کیں۔

سرکاری معلومات کے مطابق فورم میں 40 سے زیادہ ممالک کے وزرا اور سینئر قانونی حکام شریک ہوئے۔ وزیر قانون نے نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے درکار قانونی اصلاحات سے متعلق وزارتی گول میز میں بھی حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری تنازعات کا تیز اور قابل اعتماد حل سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے اہم ہے، اسی لیے حکومت عدالتی اور ثالثی ڈھانچے میں تبدیلیوں پر کام کر رہی ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے Ease of Doing Business سے متعلق قانون سازی، ون ونڈو بزنس پورٹل اور سرمایہ کاروں کے لیے ون اسٹاپ شاپ کو پاکستان میں جاری اصلاحاتی اقدامات کی مثالوں کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق مقصد مختلف سرکاری مراحل کو نسبتاً مربوط بنانا اور کاروبار شروع کرنے یا سرمایہ کاری کے دوران انتظامی رکاوٹیں کم کرنا ہے۔ خصوصی کمرشل عدالتوں کا تصور کاروباری مقدمات کو عمومی عدالتی بوجھ سے الگ اور زیادہ تخصص کے ساتھ نمٹانے کی کوشش سے منسلک ہے۔

ثالثی کا مؤثر نظام بالخصوص بین الاقوامی سرمایہ کاری اور بڑے تجارتی معاہدوں میں اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ فریقین عدالت کے بجائے متفقہ طریقہ کار کے ذریعے تنازع حل کر سکتے ہیں۔ تاہم کسی نئے Arbitration Act یا خصوصی عدالتوں کی حقیقی افادیت قانون کے حتمی متن، عدالتی اختیار، نفاذ کے قواعد، ججوں اور ثالثوں کی مہارت اور فیصلوں پر عمل درآمد کی رفتار سے طے ہوگی۔ وزیر قانون کے بیان میں ان تمام مراحل کی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔

پاکستان طویل عرصے سے نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ریگولیٹری اور عدالتی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتا آیا ہے۔ واشنگٹن فورم میں پیش کردہ اقدامات حکومت کے موجودہ اصلاحاتی ایجنڈے کی عکاسی کرتے ہیں، لیکن انہیں مکمل شدہ نتائج کے بجائے زیر عمل پالیسی اقدامات سمجھنا چاہیے۔ وزیر قانون نے عالمی شراکت داروں کے ساتھ پاکستان کے تجربات بانٹنے اور ملک کو سرمایہ کاری کے لیے کھلا رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔