اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کے کوٹوں کی تقسیم کے لیے نیا شفاف اور مسابقتی طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ حکومتی اعلان کے مطابق ملک میں پیدا ہونے والی ایل پی جی کو مناسب نگرانی میں مسابقتی نیلامی کے ذریعے مارکیٹ میں پیش کیا جائے گا، جبکہ درآمدی ایل پی جی سے وابستہ کمپنیوں کو بھی مقررہ ضابطوں اور طریقہ کار کی پابندی کرنا ہوگی۔

نئے نظام کا بنیادی مقصد کوٹوں کی تقسیم میں شفافیت اور مسابقت بڑھانا ہے۔ مقامی پیداوار کے کوٹے اب انتظامی صوابدید کے بجائے نیلامی کے عمل سے منسلک ہوں گے، جس سے مختلف اہل کمپنیوں کو قواعد کے مطابق حصہ لینے کا موقع ملے گا۔ حکومت نے اسے ایل پی جی شعبے میں نظم و ضبط اور جوابدہی بہتر بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

ایل پی جی پاکستان کے ایسے شہری اور دیہی علاقوں میں گھریلو اور تجارتی ایندھن کا اہم ذریعہ ہے جہاں پائپ لائن گیس دستیاب نہیں یا اس کی رسائی محدود ہے۔ سردیوں میں طلب بڑھنے کے باعث رسد، درآمدات اور مارکیٹ میں قیمتوں کا معاملہ خاص اہمیت اختیار کرتا ہے۔ اسی لیے کوٹوں کی تقسیم کا طریقہ کار براہ راست مارکیٹ کی ساخت اور مختلف کمپنیوں کی رسائی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

کابینہ کے سامنے پیش کیے گئے طریقہ کار میں مقامی ایل پی جی کی مسابقتی نیلامی کے ساتھ درآمدی کمپنیوں کے لیے بھی واضح قواعد پر زور دیا گیا ہے۔ متعلقہ سرکاری اور ریگولیٹری اداروں کو اس نظام کے نفاذ، نگرانی اور شرائط کی پابندی یقینی بنانا ہوگی۔ اعلان میں فوری طور پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا کہ اس تبدیلی سے صارفین کے لیے قیمتیں لازماً کم ہوں گی، اس لیے قیمتوں پر حقیقی اثر کا اندازہ نفاذ اور مارکیٹ نتائج کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔

وفاقی کابینہ کے اسی اجلاس میں دیگر اہم قومی معاملات پر بھی فیصلے کیے گئے، تاہم ایل پی جی کے حوالے سے نمایاں پالیسی تبدیلی کوٹوں کے لیے شفاف اور مسابقتی نظام کا قیام ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے شعبے میں طریقہ کار زیادہ واضح ہوگا اور مقامی و درآمدی رسد کے لیے قواعد پر عمل درآمد بہتر بنایا جا سکے گا۔

نئے بندوبست کی کامیابی کا انحصار نیلامی کے عملی ڈیزائن، نگرانی، اہل کمپنیوں کی شرکت اور ضابطہ جاتی نفاذ پر ہوگا۔ صارفین کے نقطہ نظر سے اصل پیمانہ ایل پی جی کی مسلسل دستیابی اور مارکیٹ میں منصفانہ مسابقت رہے گا، جبکہ متعلقہ اداروں کو کسی بھی بے ضابطگی یا قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کرنا ہوگی۔