پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی بعض ٹیکس اور نگرانی پالیسیوں کے خلاف 30 ستمبر 2026 کو ملک گیر ہڑتال اور نجی طبی سہولیات کی بندش کا اعلان کیا ہے۔ پی ایم اے کے مطابق نجی ہسپتالوں، کلینکس اور دیگر طبی مراکز کو احتجاج میں شامل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ تنظیم نے پوائنٹ آف سیل (POS) نظام کے نفاذ، بھاری جرمانوں، ہسپتالوں پر چھاپوں اور ٹیکس حکام کے طرز عمل پر اعتراض اٹھایا ہے۔
پی ایم اے کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے موقف اختیار کیا کہ صحت کی خدمات کو عام ریٹیل فروخت کے طور پر درجہ بندی کرنا درست نہیں، کیونکہ نجی صحت کے ادارے مریضوں کو طبی خدمات فراہم کرتے ہیں اور پہلے ہی انکم ٹیکس کے دائرے میں آتے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ موجودہ اقدامات سے ہسپتالوں اور کلینکس کے انتظامی اخراجات بڑھ رہے ہیں اور اس کے اثرات مریضوں تک منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ پی ایم اے کا مؤقف ہے؛ ایف بی آر کی جانب سے ان تمام نکات پر تفصیلی تازہ جواب فوری طور پر دستیاب نہیں تھا۔
پنجاب سمیت مختلف صوبائی اور ضلعی شاخوں کو بھی مرکزی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے رابطے تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پی ایم اے پنجاب نے نجی کلینکس، ہسپتالوں اور طبی تنظیموں سے 30 ستمبر کے احتجاج میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ تنظیم نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر اس کے مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو آئندہ لائحہ عمل مزید سخت کیا جا سکتا ہے۔ اکتوبر میں پنجاب سطح کے کنونشن میں مستقبل کی حکمت عملی پر غور کرنے کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے۔
دوسری جانب حالیہ دنوں میں لاڑکانہ سمیت بعض علاقوں میں نجی طبی مراکز اور ڈاکٹروں نے ایف بی آر کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹسز اور جرمانوں کے خلاف مقامی احتجاج بھی کیا ہے۔ ان شکایات میں حسابات کے مخصوص نظام اور عدم تعمیل کی صورت میں جرمانوں کا ذکر کیا گیا۔ پی ایم اے نے ان واقعات کو اپنے ملک گیر احتجاج کے پس منظر کا حصہ قرار دیا ہے۔
ہڑتال کا اعلان صحت عامہ کے لحاظ سے اہم ہے کیونکہ نجی شعبہ پاکستان میں بڑی تعداد میں مریضوں کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ تاہم ہنگامی طبی خدمات، مختلف شہروں میں عملی شرکت اور سرکاری و نجی ہسپتالوں کے انفرادی انتظامات کی تفصیلات الگ ہو سکتی ہیں۔ مریضوں کے لیے 30 ستمبر سے پہلے متعلقہ ہسپتال یا کلینک سے سروس کی دستیابی معلوم کرنا ضروری ہوگا۔ حتمی اثرات اس بات پر منحصر ہوں گے کہ کتنے نجی ادارے احتجاج میں شریک ہوتے ہیں اور حکومت یا ایف بی آر پی ایم اے کے مطالبات پر کیا ردعمل دیتا ہے۔
