مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کے نئے وزیرِ اعظم کے امیدوار پر فوری اتفاق نہ کرسکی اور پارٹی قیادت نے مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت حکومت سازی سے متعلق اجلاس میں بیرسٹر افتخار گیلانی اور شاہ غلام قادر کے نام زیرِ غور آئے، لیکن کسی ایک نام کی حتمی منظوری نہیں دی گئی۔ اجلاس ایک روز کے لیے مؤخر کیا گیا ہے، اس لیے دونوں رہنماؤں میں سے کسی کو بھی اس مرحلے پر نامزد امیدوار قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق اجلاس میں سینیٹر رانا ثنا اللہ، خواجہ سعد رفیق، مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر، سابق وزیرِ اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر، نومنتخب اسپیکر چوہدری طارق فاروق اور ڈپٹی اسپیکر احمد رضا قادری شریک ہوئے۔ شرکا نے وزیرِ اعظم کے انتخاب کے ساتھ آئندہ پارلیمانی حکمتِ عملی اور حکومت سازی کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا۔ دستیاب معلومات میں کسی ووٹنگ، باضابطہ نامزدگی یا تحریری پارٹی فیصلے کا ذکر نہیں، اس لیے خبر کا مرکزی نکتہ جاری مشاورت اور دو ناموں پر غور ہے۔

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وزیرِ اعظم کا انتخاب 28 اگست کو ہونا ہے۔ اس انتخاب سے پہلے ن لیگ کے لیے امیدوار کا تعین اہم مرحلہ ہے، کیونکہ اسی فیصلے سے ایوان میں پارٹی کی عملی حکمتِ عملی، نئی کابینہ کی ممکنہ تشکیل اور ابتدائی حکومتی ترجیحات کی سمت واضح ہوگی۔ اجلاس میں انہی معاملات کے علاوہ گڈ گورننس اور سرکاری امور بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی گفتگو کی گئی، تاہم کسی کابینہ، محکمے یا پالیسی اقدام کی حتمی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

بیرسٹر افتخار گیلانی اور شاہ غلام قادر کے ناموں کا زیرِ غور آنا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ قیادت کے سامنے کم از کم دو متبادل موجود ہیں۔ البتہ مشاورت مکمل نہ ہونے کے باعث یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پارٹی نے داخلی طور پر کسی ایک امیدوار کی حمایت طے کرلی ہے۔ آئندہ اجلاس یا پارٹی کے باضابطہ اعلان سے ہی معلوم ہوگا کہ 28 اگست کے انتخاب میں کس امیدوار کو سامنے لایا جاتا ہے اور دیگر پارلیمانی ارکان کے ساتھ کیا حکمتِ عملی اختیار کی جاتی ہے۔

فی الحال تصدیق شدہ صورتِ حال یہی ہے کہ شہباز شریف کی صدارت میں اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، دو ناموں پر غور کیا گیا، حکومت سازی اور انتظامی ترجیحات زیرِ بحث آئیں اور حتمی فیصلہ نہ ہونے پر مشاورت اگلے روز تک بڑھا دی گئی۔ کسی بھی نئے نام، ووٹوں کی تعداد یا اتحاد کے بارے میں باضابطہ اعلان سامنے آنے تک اسے قیاس آرائی کے بجائے زیرِ غور سیاسی عمل کے طور پر دیکھا جائے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک