جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت ملک گیر دھرنوں کے ذریعے حکومت پر دباؤ بڑھائے گی اور عوامی مسائل کے حل تک احتجاجی مہم جاری رکھے گی۔ ایکسپریس اردو کے مطابق انہوں نے لاہور کے مال روڈ پر دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ ان کا سیاسی مؤقف اور جماعت اسلامی کے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان ہے، کسی حکومتی فیصلے یا مذاکراتی نتیجے کی اطلاع نہیں۔

حافظ نعیم نے کہا کہ پشاور اور کراچی کے بعد احتجاج کا دائرہ دوسرے شہروں تک پھیل رہا ہے اور حیدرآباد میں بھی مہنگائی اور لیوی کے خلاف دھرنا شروع ہوچکا ہے۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کو دھرنوں میں سیرت النبی ﷺ کا پیغام پہنچانے کی تلقین کی۔ رپورٹ میں دھرنوں کی مجموعی تعداد، شرکا کے آزاد تخمینے یا انتظامیہ کے موقف کی تفصیل شامل نہیں، اس لیے خبر کو جماعت کے اعلان تک محدود رکھا گیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ احتجاج مہنگائی، لیوی اور آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں کے معاہدوں کے خلاف ہے۔ ان کے بقول جماعت کا مقصد کسی ذاتی مفاد کے بجائے عوامی مسائل اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ رائے عامہ کی طاقت سے حکمرانوں کو پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کیا جائے گا اور ان کی جماعت اقتدار کے لیے غیر جمہوری راستہ اختیار نہیں کرے گی۔

خطاب میں اسلام آباد کے پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی اموات کا بھی ذکر کیا گیا۔ حافظ نعیم نے سانحے پر جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور سیاسی جماعتوں پر باہمی دکھاوے کی مخالفت کا الزام لگایا۔ پمز واقعے کی ہلاکتیں الگ رپورٹس میں حکام اور اسپتال سے منسوب ہیں؛ یہاں پیش کیے گئے سیاسی نتائج اور ذمہ داری سے متعلق باتیں حافظ نعیم کے الزامات ہیں، کسی عدالتی یا تحقیقاتی فیصلے کا متبادل نہیں۔

انہوں نے مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان پر عوامی مسائل حل نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ رپورٹ میں ان جماعتوں کا فوری جواب شامل نہیں تھا۔ اس لیے ان دعوؤں کو ثابت شدہ کارکردگی رپورٹ کے بجائے اپوزیشن رہنما کی تقریر کے طور پر پڑھا جانا چاہیے۔

جماعت اسلامی کے اعلان سے آئندہ احتجاجی سرگرمیوں میں اضافے کا امکان ظاہر ہوتا ہے، تاہم دھرنوں کی مدت، مقامات اور حکومت کے ساتھ کسی باضابطہ رابطے کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اگلی قابل تصدیق پیش رفت نئے مقامات کے اعلان، انتظامیہ کی اجازت یا پابندی، اور حکومت یا متعلقہ جماعتوں کے جواب سے سامنے آئے گی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک