سندھ حکومت نے صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو اپنے اپنے اضلاع میں متروکہ وقف املاک کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کردیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق محکمہ اقلیتی امور سندھ نے اس مقصد کے لیے خصوصی اختیارات کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اور نئے احکامات فوری طور پر نافذ ہوں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنرز کو اپنے اضلاع میں موجود تجارتی، زرعی اور مذہبی نوعیت کی متروکہ وقف املاک کے انتظام کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ان کے دائرۂ کار میں ایسی املاک کی نگرانی، تحفظ اور متعلقہ ضابطوں کے تحت انتظام شامل ہوگا۔ یہ اقدام ضلعی انتظامیہ کو صوبائی ہدایات پر مقامی سطح پر عمل درآمد کی براہِ راست ذمہ داری دیتا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈپٹی کمشنرز املاک کے انتظام کے لیے ضلعی سطح پر کمیٹیاں بھی تشکیل دے سکیں گے۔ رپورٹ میں ان کمیٹیوں کے ارکان، اجلاسوں کے طریقۂ کار، مالی اختیارات یا فیصلہ سازی کے ضابطے کی مزید تفصیل نہیں دی گئی۔ ان نکات کی حتمی صورت نوٹیفکیشن کے مکمل متن اور بعد میں جاری ہونے والی محکمانہ ہدایات سے واضح ہوگی۔
متروکہ وقف املاک کے تحفظ اور ریگولیشن کے اختیارات ضلعی انتظامیہ کو سونپنے کا مطلب انتظامی نگرانی کا نیا بندوبست ہے۔ دستیاب رپورٹ میں کسی خاص جائیداد کی ملکیت تبدیل کرنے، کسی فرد یا ادارے کو بے دخل کرنے، لیز منسوخ کرنے یا کسی مخصوص ضلع میں کارروائی شروع کرنے کا اعلان شامل نہیں۔ اس لیے حکم کو انفرادی املاک کے بارے میں حتمی فیصلے کے طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا۔
رپورٹ میں صوبے میں ایسی املاک کی مجموعی تعداد، ان سے حاصل ہونے والی آمدن، زیرِ التوا تنازعات یا پہلے سے موجود انتظامی ڈھانچے کی کارکردگی کے اعدادوشمار بھی فراہم نہیں کیے گئے۔ فوری طور پر قابلِ تصدیق پیش رفت ڈپٹی کمشنرز کی بطور ایڈمنسٹریٹر تقرری، تجارتی و زرعی و مذہبی املاک کی نگرانی اور ضلعی کمیٹیوں کی تشکیل کے اختیار تک محدود ہے۔
عمل درآمد کے اگلے مرحلے میں متعلقہ اضلاع کے احکامات، کمیٹیوں کی تشکیل اور املاک کے ریکارڈ سے واضح ہوگا کہ صوبائی فیصلے کو عملی سطح پر کیسے نافذ کیا جاتا ہے۔ کسی مخصوص ملکیتی دعوے یا قانونی تنازعے کا فیصلہ متعلقہ قانون، دستاویزات اور مجاز فورم کے تحت ہی ہوگا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




