اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے بعد کراچی کے جناح اسپتال نے آگ سے نمٹنے کی عملی مشق کی ہے۔ ایکسپریس اردو کے مطابق اسپتال کے انتظامی عملے نے افسر یوسف بھٹی کی نگرانی میں فائر ڈرل کی، جبکہ ڈاکٹرز اور انتظامیہ نے موجود حفاظتی انتظامات اور مزید ضروریات کی تفصیل بیان کی۔ یہ کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں کے فائر سیفٹی جائزے کی نئی عملی پیش رفت ہے۔

جناح اسپتال کی ایمرجنسی کے سربراہ اور جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سلیمان، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صنوبر، ڈاکٹر میر اور ترجمان ڈاکٹر وقاص خان نے بتایا کہ اسپتال کے تمام وارڈز میں آگ بجھانے کے آلات نصب ہیں اور کئی ڈاکٹرز و عملے کو فائر فائٹنگ کی تربیت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق بچوں کے شعبے اور نرسری میں بھی آلات موجود ہیں، جبکہ ایمرجنسی سمیت مختلف وارڈز اور شعبوں میں ہنگامی اخراج کے راستے بنائے گئے ہیں۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چھوٹے پیمانے کی آگ تربیت یافتہ عملہ بجھا سکتا ہے، مگر بڑے واقعے کی صورت میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کی مدد لی جائے گی۔ حکام نے بڑے سرکاری اسپتالوں میں اپنے فائر ٹینڈر اور مستقل فائر کنٹرول شعبے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے شہر میں آگ سے متاثرہ مریضوں کے لیے مزید سرکاری برنس اسپتال قائم کرنے کی تجویز بھی دی۔

نئی رپورٹ کے مطابق جناح اسپتال میں دو ماہ قبل بھی آگ اور ایمرجنسی سے نمٹنے کی ایک بڑی مشق ہوئی تھی اور حالیہ سانحے کے بعد مزید مشق کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انتظامیہ نے اسپتال میں ریسکیو ٹیم قائم کرنے اور سندھ محکمہ صحت کی جانب سے دوسرے سرکاری اسپتالوں میں آگ بجھانے کی سہولیات بڑھانے کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔

یہ تازہ بیان ایکسپریس اردو کی اسی روز شائع ہونے والی پہلی جائزہ رپورٹ کے بعض نکات سے مختلف ہے۔ پہلی رپورٹ میں اسپتال ذرائع نے فائر الارم نہ ہونے، متعدد فائر ایکسٹنگوشر غیرفعال ہونے اور آخری فائر ڈرل 2017 میں ہونے کی اطلاع دی تھی، جبکہ نئی رپورٹ میں انتظامیہ نے دو ماہ پہلے مشق، ہر وارڈ میں آلات اور تربیت یافتہ عملے کا بتایا۔ دونوں رپورٹس میں کسی آزاد تکنیکی آڈٹ، آلات کی مکمل معائنہ فہرست یا فائر الارم کی تنصیب کی تصدیق شامل نہیں۔

اس اختلاف کو کسی ایک بیان سے ختم شدہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ انتظامیہ کے دعوے، ذرائع کی اطلاع اور عملی مشق کی موجودگی الگ الگ شواہد ہیں۔ باقاعدہ فائر سیفٹی آڈٹ ہی واضح کرسکتا ہے کہ کتنے آلات فعال ہیں، الارم کہاں نصب ہے، اخراجی راستے عملی طور پر قابل استعمال ہیں یا نہیں اور عملے کی کتنی تعداد حالیہ تربیت مکمل کرچکی ہے۔

جناح اسپتال انتظامیہ نے اپنی گنجائش تقریباً 2,200 داخل مریض، روزانہ ایمرجنسی میں قریب دو ہزار مریض اور او پی ڈی میں 10 ہزار سے زیادہ افراد بتائی۔ اتنے بڑے مریض بوجھ کے سبب آگ کی بروقت شناخت، فوری انخلا، عملے کی تربیت اور بیرونی فائر سروس سے رابطہ خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ موجودہ مصدقہ نئی پیش رفت عملی ڈرل اور انتظامیہ کے حفاظتی دعوے ہیں؛ مکمل تیاری کی آزاد تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک