پشاور: قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسداد پولیو نے خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں پولیو کے ایک نئے کیس کی تصدیق کی ہے۔ متاثرہ بچی کی عمر 13 ماہ ہے اور اس کا تعلق تحصیل باڑہ کی جان باز یونین کونسل سے بتایا گیا ہے۔ مرکز کے مطابق یہ ضلع خیبر میں رواں سال سامنے آنے والا دوسرا پولیو کیس ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس کیس کے بعد 2026 میں پاکستان میں پولیو کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد سات ہوگئی ہے۔ ان میں چھ کیس خیبر پختونخوا اور ایک سندھ سے رپورٹ ہوا ہے۔ یہ اعداد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وائرس کی جغرافیائی توجہ خاص طور پر خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں برقرار ہے، جہاں رسائی، نقل و حرکت اور ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کے مسائل انسداد پولیو حکمت عملی کے لیے اہم چیلنج ہیں۔
قومی ای او سی نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ ہر مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں اور معمول کی حفاظتی ویکسین کا شیڈول بھی مکمل رکھیں۔ ادارے کے مطابق پولیو کا کوئی علاج نہیں لیکن ویکسین کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے، اس لیے بار بار کی ویکسینیشن بچوں کی قوت مدافعت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
نئے کیس کی تصدیق ایسے وقت ہوئی ہے جب 2 نومبر سے ملک کے 97 منتخب اضلاع میں خصوصی ذیلی قومی انسداد پولیو مہم شروع کی جا رہی ہے۔ اس مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر 2 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ قومی ای او سی کے مطابق پاکستان میں رواں سال چار بڑے پیمانے کی ویکسینیشن مہمات پہلے ہی ہو چکی ہیں، جبکہ زیادہ خطرے والے علاقوں میں ہدفی زبانی اور انجیکشن کے ذریعے ویکسینیشن سرگرمیاں بھی جاری رہی ہیں۔
پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس کی مقامی ترسیل اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ پاکستان نے گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں کیسز میں بہت بڑی کمی حاصل کی ہے، لیکن ہر نیا تصدیق شدہ کیس اس امر کی یاد دہانی ہے کہ وائرس کی ترسیل کا سلسلہ توڑنے کے لیے مسلسل نگرانی، ماحولیاتی نمونوں کی جانچ، بروقت مہمات اور ہر بچے تک ویکسین کی رسائی ناگزیر ہے۔
