اسلام آباد: پاور ڈویژن اور مینوفیکچرنگ شعبے کے نمائندوں نے بجلی کی بڑھتی پیداواری لاگت کے تناظر میں فرنس آئل اور ڈیزل پر عائد پٹرولیم لیوی ختم یا کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی میں ستمبر کی بجلی کیلئے اضافی ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر عوامی سماعت کے دوران سامنے آیا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے تقسیم کار کمپنیوں کیلئے 2.56 روپے فی یونٹ اضافی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی اجازت مانگی ہے، جس کا مجموعی مالی اثر تقریباً 32.76 ارب روپے بتایا گیا۔ سی پی پی اے کے مطابق ستمبر میں اصل ایندھن لاگت 10.022 روپے فی یونٹ رہی جبکہ حوالہ جاتی شرح 7.46 روپے تھی۔ درخواست منظور ہونے کی صورت میں یہ ایڈجسٹمنٹ نومبر کے بلوں میں وصول کی جائے گی، تاہم حکام کا کہنا تھا کہ موجودہ ایڈجسٹمنٹ ختم ہونے کے بعد خالص اضافہ 1.45 روپے فی یونٹ سے زیادہ نہیں ہوگا۔
صنعتی نمائندوں نے سماعت میں مؤقف اختیار کیا کہ بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے فرنس آئل پر تقریباً 76 ہزار روپے فی ٹن اور ڈیزل پر 80 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی پیداواری لاگت کو نمایاں طور پر بڑھا رہی ہے۔ ان کے مطابق علاقائی تنازع کے باعث ایل این جی اور نسبتاً سستے ایندھن کی دستیابی متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں مہنگے متبادل ایندھن کا استعمال بڑھا۔ پاور ڈویژن کے ماتحت اداروں کے نمائندوں نے بتایا کہ ستمبر میں فرنس آئل اور ڈیزل سے مجموعی بجلی پیداوار کا تقریباً 3.6 فیصد حاصل کیا گیا۔
صنعتی حلقوں کا کہنا تھا کہ لیوی میں کمی سے مہنگے ایندھن سے بجلی بنانے کی لاگت کم ہو سکتی ہے اور حکومتی سبسڈی کا بوجھ بھی محدود کیا جا سکتا ہے۔ پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے چیف فنانشل افسر نوید قیصر نے بھی تسلیم کیا کہ ڈیزل اور فرنس آئل پر لیوی بجلی کی لاگت پر نمایاں اثر ڈال رہی ہے۔ ان کے مطابق پاور ڈویژن متعلقہ فورمز پر اس معاملے میں کمی کیلئے کوشش کرتا رہا ہے اور حکومت خصوصاً صنعت کیلئے بجلی کے نرخ کم کرنے کو مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کے تناظر میں اہم سمجھتی ہے۔
سی پی پی اے کے اعدادوشمار کے مطابق ستمبر میں ہائی اسپیڈ ڈیزل سے 213 گیگاواٹ آور بجلی پیدا ہوئی اور اس کی لاگت 62.14 روپے فی یونٹ رہی، جبکہ فرنس آئل سے 263 گیگاواٹ آور پیداوار ہوئی جس کی لاگت 44.86 روپے فی یونٹ بتائی گئی۔ مجموعی بجلی طلب میں 6.5 فیصد اور صنعتی کھپت میں 6.7 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا۔
سماعت میں نیپرا اور صنعتی نمائندوں نے بجلی پیداوار کے بعض اعدادوشمار کی مطابقت اور شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے۔ پورٹ قاسم پاور پلانٹ میں کوئلے کی خریداری کے طریقہ کار سے متعلق صنعتی نمائندوں نے تحقیقات کا مطالبہ کیا، جبکہ نیپرا نے یقین دہانی کرائی کہ صرف معقول اور قابل قبول کوئلہ لاگت صارفین پر منتقل ہونے دی جائے گی۔ یہ اعتراضات اور الزامات سماعت میں اٹھائے گئے مؤقف ہیں اور کسی حتمی تحقیقاتی نتیجے کے طور پر رپورٹ نہیں ہوئے۔
