اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد راحیل کامران شیخ کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے ایوان صدر کے اعلامیے کے حوالے سے بتایا کہ استعفیٰ متعلقہ آئینی دفعات کے تحت قبول کیا گیا۔ اس منظوری کے بعد جسٹس راحیل کامران شیخ کی لاہور ہائیکورٹ میں عدالتی ذمہ داریاں باضابطہ طور پر ختم ہو گئی ہیں۔

ایوان صدر کے مختصر بیان میں استعفے کی منظوری کی تصدیق کی گئی، تاہم اس میں فیصلے کی مزید انتظامی تفصیل، مؤثر تاریخ یا آئندہ عدالتی خالی آسامی سے متعلق طریقہ کار بیان نہیں کیا گیا۔ پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ کے جج کا استعفیٰ آئینی عمل کے تحت صدر کو پیش کیا جاتا ہے اور باضابطہ قبولیت کے بعد متعلقہ منصب خالی تصور کیا جاتا ہے۔

جسٹس راحیل کامران شیخ نے رواں ماہ کے آغاز میں لاہور ہائیکورٹ سے استعفیٰ دیا تھا۔ ڈان کی 4 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنے عدالتی منصب سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تھا، جبکہ 22 ستمبر کو ایوان صدر کی منظوری نے اس عمل کو رسمی طور پر مکمل کر دیا۔ اس لیے تازہ پیش رفت کو استعفے کے اصل فیصلے سے الگ ایک انتظامی اور آئینی مرحلہ سمجھا جانا چاہیے۔

اعلیٰ عدالتوں میں کسی جج کے منصب خالی ہونے کے بعد آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق نئی تقرری یا عدالتی قوت کی تنظیم نو کے معاملات سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم ایوان صدر کے موجودہ اعلامیے میں کسی متبادل تقرری یا لاہور ہائیکورٹ کی منظور شدہ و موجودہ ججوں کی تعداد کے بارے میں نئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی، اس لیے اس خبر میں ان امور سے متعلق کوئی قیاس آرائی شامل نہیں کی جا رہی۔

جسٹس راحیل کامران شیخ نے لاہور ہائیکورٹ میں مختلف آئینی، انتخابی، مالیاتی اور انتظامی نوعیت کے مقدمات کی سماعت کی۔ ان کے استعفے کی منظوری عدالتی ادارے کے لیے ایک باقاعدہ سروس تبدیلی ہے، جس کے اثرات بنیادی طور پر عدالتی روسٹر، بینچوں کی تشکیل اور زیر التوا مقدمات کی تقسیم جیسے انتظامی معاملات پر پڑ سکتے ہیں۔ ان معاملات سے متعلق حتمی فیصلے لاہور ہائیکورٹ اور متعلقہ آئینی اداروں کی آئندہ کارروائی سے واضح ہوں گے۔

دستیاب سرکاری اطلاع میں استعفے کی وجہ سے متعلق کوئی نئی وضاحت شامل نہیں۔ اس لیے اس خبر کا بنیادی تصدیق شدہ نکتہ یہی ہے کہ صدر مملکت نے جسٹس محمد راحیل کامران شیخ کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے اور اس آئینی عمل کی تکمیل ایوان صدر نے سرکاری طور پر اعلامیے کے ذریعے بیان کی ہے۔