اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے وفاقی ٹیکس محتسب کے فیصلے کے خلاف فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی نمائندگی مسترد کرتے ہوئے ٹیکس دہندگان کی مالی اور ذاتی معلومات کی رازداری سے متعلق حکم برقرار رکھا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق صدارتی حکم کا تعلق گوجرانوالہ کے چھ مقدمات سے ہے جن میں شکایت کنندگان نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی خفیہ ٹیکس معلومات دوسرے متعلقہ ٹیکس دہندگان کے اسیسمنٹ آرڈرز میں شامل کر دی گئی تھیں۔
شکایات میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ویلتھ اسٹیٹمنٹس، آمدن اور کیپیٹل گینز سے متعلق معلومات کو دوسرے افراد کے اسیسمنٹ آرڈرز میں نقل کرنا انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 216 کے تحت رازداری کے تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔ شکایت کنندگان کا کہنا تھا کہ ٹیکس حکام متعلقہ فریقوں کے مالی ریکارڈ کو جائزے کے لیے دیکھ سکتے ہیں، لیکن ایسی معلومات کو اس انداز میں دوسرے ٹیکس دہندگان کے آرڈر میں ظاہر نہیں کیا جا سکتا کہ وہ غیر مجاز فرد کے لیے قابل رسائی ہو جائے۔
ایف بی آر نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ معلومات پہلے ہی سرکاری ریکارڈ، ٹیکس ریٹرنز، ویلتھ اسٹیٹمنٹس اور قانونی ڈیکلریشنز میں موجود تھیں اور قانون بعض حالات میں انکم ٹیکس آرڈیننس کے نفاذ کے لیے معلومات کے استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ محکمے کے مطابق متعلقہ فریقوں کے لین دین اور دولت کے پیٹرن کا جائزہ اسیسمنٹ کارروائی کا حصہ ہو سکتا ہے۔
وفاقی ٹیکس محتسب نے تسلیم کیا کہ متعلقہ افراد کی معلومات ایک تفصیلی اسیسمنٹ آرڈر تیار کرنے کے لیے اہم ہو سکتی ہیں، لیکن قرار دیا کہ انہیں خفیہ طور پر سرکاری مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے اور دوسرے ٹیکس دہندگان کے آرڈرز میں اس طرح شامل نہیں کیا جانا چاہیے کہ غیر مجاز رسائی ممکن ہو۔ محتسب نے چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو، آر ٹی او گوجرانوالہ کو متعلقہ آرڈرز کا جائزہ لے کر رازداری یقینی بنانے کے لیے قانونی اقدامات کی ہدایت کی تھی۔
ایف بی آر نے اس حکم کو چیلنج کیا، تاہم مجاز اتھارٹی نے کہا کہ ہر ٹیکس دہندہ کی ریٹرن کو اپنی قانونی حیثیت اور حقائق پر جانچا جانا چاہیے۔ ریکارڈ میں محتسب کے فیصلے میں ایسی خامی نہیں پائی گئی جس کی بنیاد پر اسے تبدیل کیا جاتا، جس کے بعد نمائندگی مسترد کر دی گئی۔ صدر نے اس فیصلے کی منظوری دی۔
4 ستمبر 2026 کے حکم سے واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری ٹیکس ریکارڈ میں معلومات کا جائز استعمال ممکن ہے، مگر ذاتی مالی معلومات کی غیر ضروری یا غیر مجاز اشاعت سے بچنا لازم ہے۔ یہ فیصلہ ٹیکس انتظامیہ میں ڈیٹا گورننس اور شہریوں کی مالی رازداری کے عملی تقاضوں کو نمایاں کرتا ہے۔
