نیویارک: امریکا کے بینچ مارک 10 سالہ ٹریژری نوٹ کی ییلڈ پیر کو 5 فیصد سے اوپر چلی گئی، جو اکتوبر 2023 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق ییلڈ 3.51 بیسس پوائنٹس اضافے کے ساتھ تقریباً 5.01 فیصد تک پہنچی۔ پانچ فیصد کی سطح کو مالی منڈیوں میں ایک اہم نفسیاتی حد سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے اثرات رہن قرضوں، کار فنانسنگ، صارف قرضوں اور کمپنیوں کی فنانسنگ لاگت تک منتقل ہو سکتے ہیں۔
بانڈ ییلڈز میں اضافہ ایسے وقت ہوا ہے جب تیل کی قیمتوں میں تیزی نے مہنگائی کے نئے دباؤ کا خدشہ بڑھایا ہے۔ سرمایہ کار اس امکان کو زیادہ وزن دے رہے ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو کو شرح سود توقع سے زیادہ عرصے تک بلند رکھنا پڑ سکتی ہے۔ امریکا میں قیمتوں کا دباؤ پہلے ہی مرکزی بینک کے دو فیصد سالانہ ہدف سے اوپر ہے، اس لیے توانائی کی نئی مہنگائی پالیسی کے منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
مارکیٹ پر قرضوں کی بڑی مقدار کی نئی فراہمی بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ ریکارڈ سطح کی مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری کی فنانسنگ کرنے والی کمپنیوں سمیت مختلف ادارے بانڈ جاری کر رہے ہیں، جس سے خریداروں کے سامنے سیکیورٹیز کی رسد بڑھ گئی ہے۔ زیادہ رسد عام طور پر بانڈ قیمتوں پر دباؤ اور ییلڈز میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
سرمایہ کار امریکی مالیاتی خسارے اور بڑھتے سرکاری قرض پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واشنگٹن کا قرضی بوجھ بڑھتا رہا تو سرمایہ کار زیادہ رسک پریمیم طلب کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف امریکی معیشت کی نسبتاً مضبوط رفتار بھی ییلڈز کو سہارا دے رہی ہے کیونکہ مضبوط نمو بلند شرح سود کو زیادہ دیر برقرار رکھنے کی گنجائش پیدا کر سکتی ہے۔
پانچ فیصد کی ییلڈ اسٹاک مارکیٹ کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ زیادہ منافع دینے والے سرکاری بانڈز سرمایہ کاروں کے لیے حصص کا متبادل بن سکتے ہیں۔ اگر سرمایہ بانڈز کی طرف منتقل ہوتا ہے تو ایکویٹی مارکیٹ کی قدر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح زیادہ ٹریژری ییلڈز قرض لینے کی وسیع لاگت میں اضافے کا سبب بنتی ہیں، جس سے گھرانوں، کاروباری اداروں اور مقامی حکومتوں کی فنانسنگ مہنگی ہو سکتی ہے۔ آئندہ سمت کا دارومدار تیل، مہنگائی، فیڈ کی پالیسی اور امریکی قرض کے اجرا پر رہے گا۔
