پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے کاروباری سیشن کے دوران فروخت کا دباؤ برقرار رہا اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 720.83 پوائنٹس، یعنی 0.41 فیصد، کمی کے ساتھ 176,975.68 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں نے مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی کشیدگی، خام تیل کی بلند قیمتوں اور مقامی مہنگائی کے خدشات کو سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے اہم عوامل قرار دیا۔
ٹاپ لائن سکیورٹیز کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات نے برینٹ خام تیل کو 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر دھکیل دیا، جس سے پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ملک کے بیرونی کھاتے اور مہنگائی سے متعلق خدشات بڑھے۔ زیادہ عالمی تیل قیمتیں درآمدی بل، نقل و حمل اور پیداواری اخراجات پر اثر ڈال سکتی ہیں، تاہم ان کا حتمی اثر قیمتوں کی مدت، شرح مبادلہ اور حکومتی ٹیکس و قیمت پالیسی پر منحصر ہوگا۔
مارکیٹ میں بعض ریفائنری اور توانائی حصص نے انڈیکس کو سہارا دیا۔ اٹک ریفائنری، او جی ڈی سی، فوجی فرٹیلائزر، میزان بینک اور سنرجیکو پاکستان نے مجموعی طور پر تقریباً 408 پوائنٹس کا مثبت حصہ ڈالا۔ دوسری جانب یونائیٹڈ بینک، سسٹمز لمیٹڈ، حبیب بینک، لکی سیمنٹ اور پاکستان پیٹرولیم نے مجموعی طور پر تقریباً 755 پوائنٹس کا منفی دباؤ ڈالا۔
ریفائنری شعبے میں خریداری کی ایک وجہ آئندہ دنوں میں ریفائنری اپ گریڈیشن معاہدوں پر ممکنہ پیش رفت کی مارکیٹ توقعات بتائی گئیں۔ نیشنل ریفائنری اور پاکستان ریفائنری کے حصص بالائی حد تک پہنچے، جبکہ اٹک ریفائنری اور سنرجیکو پاکستان میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ حرکت ظاہر کرتی ہے کہ مجموعی مندی کے باوجود شعبہ جاتی خبروں پر سرمایہ کاروں کا ردعمل مختلف رہا۔
کاروباری حجم 42 فیصد سے زیادہ بڑھ کر تقریباً 931.7 ملین حصص تک پہنچا، جبکہ کاروباری مالیت 24 فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ 39.13 ارب روپے رہی۔ بلند حجم کے ساتھ گرتی مارکیٹ کو بعض تجزیہ کاروں نے فروخت کے بڑھتے دباؤ کی علامت قرار دیا۔ آنے والے سیشنز میں عالمی تیل قیمتیں، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، مقامی مہنگائی اور اسٹیٹ بینک کی آئندہ مانیٹری پالیسی سے متعلق توقعات مارکیٹ کے اہم محرکات رہنے کا امکان ہے۔




