سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو خواتین کے لیے جامع انشورنس پالیسی کے تصور پر عالمی سطح کا آؤٹ اسٹینڈنگ پالیسی ایوارڈ ملا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق یہ اعزاز ویمنز ورلڈ بینکنگ پروگرام کے تحت یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں ہونے والے عمل میں دیا گیا، جس میں 16 ممالک کی ٹیموں نے شرکت کی۔ ایوارڈ کا تعلق ایس ای سی پی کی اس پالیسی تجویز سے ہے جس کا مقصد خواتین کی انشورنس تک رسائی بڑھانا اور موجودہ مالیاتی تحفظ کے خلا کو کم کرنا ہے۔

مجوزہ پالیسی میں خواتین کی ضروریات کے مطابق مصنوعات، آسان ڈیجیٹل رسائی اور انشورنس کمپنیوں کے ذریعے مخصوص پیشکشوں پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بیمہ کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ کم از کم دو ایسی مصنوعات متعارف کرائیں جو خواتین کی مختلف مالی اور سماجی ضروریات کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی ہوں۔ اس میں زندگی، صحت، آمدن کے تحفظ اور روزمرہ مالی خطرات سے متعلق سہولتوں کی گنجائش ہو سکتی ہے، تاہم ہر حتمی پروڈکٹ کی شرائط متعلقہ کمپنی، منظوری اور ضابطہ کار کے مطابق طے ہوں گی۔

ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں خواتین کی آبادی تقریباً 11 کروڑ 70 لاکھ ہے۔ اس بڑے طبقے کے مقابلے میں باقاعدہ انشورنس کوریج محدود ہے۔ پالیسی سے ابتدائی طور پر تقریباً 15 لاکھ موجودہ خواتین لائف پالیسی ہولڈرز تک بہتر سہولت اور موزوں مصنوعات پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ یہ عدد متوقع ابتدائی دائرہ ہے، پوری خواتین آبادی کی فوری کوریج یا کسی لازمی نتیجے کی ضمانت نہیں۔

پالیسی کا ایک اہم پہلو ڈیجیٹل چینلز کو استعمال کرتے ہوئے معلومات، اندراج اور خدمات تک رسائی آسان بنانا ہے۔ پاکستان میں بہت سی خواتین جغرافیائی فاصلے، رسمی بینکاری سے محدود تعلق، پیچیدہ دستاویزات یا مصنوعات کے بارے میں کم آگاہی کے باعث بیمہ خدمات سے باہر رہتی ہیں۔ ڈیجیٹل رسائی ان رکاوٹوں کو کم کر سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ واضح شرائط، ڈیٹا کے تحفظ، شکایات کے مؤثر نظام اور صارف کو مناسب معلومات فراہم کرنا بھی ضروری ہوگا۔

ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے عالمی شناخت کو ادارے کی پالیسی سمت کی توثیق قرار دیا۔ ان کے مطابق مالی شمولیت اور صارفین کا تحفظ کمیشن کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ اعزاز سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں خواتین کے لیے بیمہ کے دائرے کو بڑھانے کی کوشش کو بین الاقوامی پالیسی سطح پر اہم سمجھا گیا ہے، تاہم اصل کامیابی کا انحصار پالیسی کے باقاعدہ نفاذ، کمپنیوں کی شرکت، قابل برداشت قیمت اور صارفین کے اعتماد پر ہوگا۔

رپورٹ میں کسی مخصوص نئی انشورنس پروڈکٹ کی فوری فروخت، پریمیم کی حتمی شرح یا ہر خاتون کے لیے خودکار کوریج کا اعلان نہیں کیا گیا۔ موجودہ مرحلہ پالیسی کے ڈیزائن اور اس کی عالمی پذیرائی سے متعلق ہے۔ صارفین کو کسی بھی بیمہ منصوبے میں شامل ہونے سے پہلے پالیسی دستاویز، اخراجات، استثنا، دعوے کے طریقہ کار اور کمپنی کی ضابطہ جاتی حیثیت ضرور دیکھنی چاہیے۔

— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک