وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی تازہ قیمتوں میں پیٹرول 77 پیسے فی لیٹر مہنگا جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 1 روپے 3 پیسے فی لیٹر سستا کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق منگل یکم ستمبر سے ہوگا۔ سرکاری ریڈیو پاکستان نے بھی پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے نئی شرحوں کی تصدیق کی ہے۔
تازہ نظرثانی کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 342 روپے 79 پیسے مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 370 روپے 41 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔ حکومت پیٹرول پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی مد میں مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں یہ تبدیلی ایسے وقت کی گئی ہے جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ بڑھنے والی کشیدگی اور رسد سے متعلق خدشات کے باعث اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔ پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک اس سے قبل اعلان کر چکے ہیں کہ بین الاقوامی قیمتوں میں تیز تبدیلی کے باعث ایندھن کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر طے کی جائیں گی۔ ان کے مطابق کابینہ اور وزیراعظم نے اوگرا کو عالمی منڈی کے رجحانات کی بنیاد پر روزانہ قیمتوں کے تعین کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
پاکستان میں پیٹرول بنیادی طور پر نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں تبدیلی براہ راست گھریلو اور شہری آمدورفت کے اخراجات سے جڑی ہوتی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، مال برداری، بعض بجلی گھروں اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے، جس کی قیمت میں کمی یا اضافہ نقل و حمل اور کاروباری لاگت پر اثر ڈال سکتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں علاقائی جنگ اور عالمی رسد کے خدشات کے دوران پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ ڈیزل کی قیمت 3 اپریل کو 520.35 روپے فی لیٹر کی بلند سطح تک پہنچی تھی، جبکہ پیٹرول اسی تاریخ کو 458.41 روپے فی لیٹر تک گیا تھا۔ موجودہ نرخ ان چوٹی کی سطحوں سے کم ہیں، تاہم عالمی منڈی کی غیر یقینی صورتحال کے باعث حکومت نے قیمتوں کے تعین کا دورانیہ مختصر کیا ہے تاکہ بین الاقوامی تبدیلیوں کو مقامی نرخوں میں نسبتاً جلد منتقل کیا جا سکے۔




