خلیج میں جاری جنگ اور مالی لین دین کی بڑھتی نگرانی نے پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ کی روایتی کشش کو متاثر کیا ہے۔ کراچی میں پراپرٹی اور کرنسی مارکیٹ سے وابستہ ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ پاکستان سے غیر دستاویزی سرمائے کے دبئی منتقل ہونے کی رفتار کم ہوئی ہے، جبکہ وہاں پہلے سے لگائی گئی بعض رقوم واپس پاکستان آ کر مقامی جائیداد میں منتقل ہو رہی ہیں۔
یہ معلومات مارکیٹ ذرائع اور کاروباری حلقوں کے مشاہدات پر مبنی ہیں، اس لیے انہیں سرکاری سطح پر مکمل سرمائے کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ دبئی طویل عرصے سے پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے بیرون ملک جائیداد کی ایک بڑی منزل رہا ہے اور ہزاروں پاکستانیوں نے وہاں رہائشی اور تجارتی املاک خرید رکھی ہیں۔ حالیہ علاقائی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے خطرے کے اندازوں اور اثاثوں کی جغرافیائی تقسیم پر اثر ڈالا ہے۔
کرنسی مارکیٹ سے وابستہ افراد کے مطابق غیر رسمی ذرائع سے بڑی رقوم بیرون ملک منتقل کرنے میں مشکلات بڑھی ہیں۔ پاکستان میں بھی مالی نگرانی، دستاویزی تقاضوں اور غیر قانونی کرنسی تجارت کے خلاف کارروائیوں نے سرمائے کی غیر رسمی منتقلی کو پہلے کے مقابلے میں مشکل بنایا ہے۔ دوسری طرف دبئی میں جائیداد کے لین دین اور اصل فائدہ اٹھانے والے مالکان سے متعلق قواعد کی سختی بھی سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
مقامی پراپرٹی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ کراچی اور دیگر بڑے شہروں کے بعض مہنگے علاقوں میں بیرون ملک سے واپس آنے والی سرمایہ کاری کی دلچسپی محسوس کی جا رہی ہے۔ تاہم ملک میں جائیداد کی مجموعی مارکیٹ اب بھی بلند ٹیکسوں، معاشی غیر یقینی اور کمزور لین دین جیسے عوامل سے متاثر ہے، اس لیے چند بڑے سرمایہ کاروں کی واپسی کو پورے شعبے کی بحالی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
خلیجی جنگ کے باعث تیل، فضائی سفر، تجارت اور سرمایہ کاری کے راستوں پر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے خطے کی مالی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے دبئی کی جائیداد اب بھی ایک اہم اثاثہ ہے، مگر تازہ مارکیٹ اشارے بتاتے ہیں کہ جغرافیائی خطرات اور مالی نگرانی کے باعث سرمایہ کاری کی حکمت عملی میں تبدیلی آ رہی ہے۔ آنے والے مہینوں میں سرکاری ترسیلات، بینکاری اعداد و شمار اور جائیداد کے رجسٹرڈ لین دین سے اس رجحان کی اصل وسعت زیادہ واضح ہو سکے گی۔




