فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اگست 2026 میں 901 ارب روپے کے ٹیکس محصولات جمع کیے، جو 930 ارب روپے کے مقررہ ماہانہ ہدف سے 29 ارب روپے کم ہیں۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اگست کی وصولی گزشتہ سال کے اسی مہینے کے تقریباً 900 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً مستحکم رہی، جس سے ماہانہ سطح پر محصولات کی رفتار میں محدود اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔

تاہم مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ، جولائی اور اگست، کی مجموعی تصویر نسبتاً بہتر رہی۔ ایف بی آر نے اس عرصے میں 1.722 ٹریلین روپے جمع کیے جبکہ دو ماہ کا مقررہ ہدف 1.710 ٹریلین روپے تھا۔ اس طرح مجموعی وصولی ہدف سے 12 ارب روپے زیادہ رہی۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں وصولی میں تقریباً 3.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

محصولات کی مختلف مدات میں انکم ٹیکس سب سے بڑا ذریعہ رہا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جولائی اور اگست میں انکم ٹیکس وصولی 824 ارب روپے رہی۔ سیلز ٹیکس کی مد میں 659 ارب روپے، کسٹمز ڈیوٹی میں 188 ارب روپے اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 113 ارب روپے جمع ہوئے۔ یہ اعداد و شمار ابتدائی ہیں اور حتمی مفاہمت کے بعد معمولی تبدیلی ممکن ہے۔

ایف بی آر نے مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ٹیکس دہندگان کو 155 ارب روپے کے ریفنڈز اور ریبیٹس بھی جاری کیے۔ ریفنڈز کی ادائیگی کاروباری اداروں کے نقد بہاؤ کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے، تاہم حکومت کے لیے اصل چیلنج سالانہ محصولات کے بلند ہدف کے مطابق وصولیوں کی رفتار برقرار رکھنا ہے۔ اگست میں ماہانہ ہدف سے کمی اس تناظر میں اہم ہے کیونکہ آنے والے مہینوں میں مطلوبہ شرح نمو حاصل کرنے کے لیے وصولیوں میں تیزی درکار ہوگی۔

حکومت نے موجودہ مالی سال کے لیے ایف بی آر کو بلند سالانہ ٹیکس ہدف دیا ہے، جس کا انحصار معاشی سرگرمی، درآمدات، مہنگائی، نفاذی اقدامات اور ٹیکس نیٹ میں توسیع سمیت متعدد عوامل پر ہوگا۔ پہلے دو ماہ میں مجموعی ہدف سے معمولی برتری حکومت کے لیے مثبت اشارہ ہے، لیکن اگست کی کمزور ماہانہ کارکردگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ پورے مالی سال کے اہداف حاصل کرنے کے لیے مستقل اور نمایاں ریونیو نمو ضروری ہوگی۔