کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو خریداری کا رجحان برقرار رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 830.43 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 172,232.51 پوائنٹس پر بند ہوا۔ دن کے اختتام پر اضافہ 0.48 فیصد رہا، اگرچہ کاروباری سیشن کے دوران مارکیٹ میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

کاروبار کے آغاز میں انڈیکس تیزی سے اوپر گیا لیکن ابتدائی اوقات میں فروخت کے دباؤ نے اس رفتار کو محدود کر دیا۔ کے ایس ای 100 ایک موقع پر 172,400 سے اوپر گیا، پھر 172,000 کے قریب واپس آیا اور بعد میں دوبارہ سنبھلا۔ دوپہر کے قریب خریداری مضبوط ہونے پر انڈیکس نے 172,762.41 پوائنٹس کی انٹرا ڈے بلند سطح کو چھوا، تاہم بلند سطحوں پر منافع کے حصول کے باعث یہ اضافہ مکمل طور پر برقرار نہ رہ سکا۔

دن کے آخری حصے میں انڈیکس زیادہ تر محدود دائرے میں رہا اور آخری گھنٹے میں معمولی بحالی کے بعد 172,232.51 پر بند ہوا۔ ایک روز قبل انڈیکس 171,402.08 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، اس طرح بدھ کے سیشن میں مجموعی طور پر 830.43 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی مارکیٹ کمنٹری میں نرم عالمی تیل قیمتوں اور امریکا-ایران کشیدگی میں کمی کی امید کو سرمایہ کاروں کے مزاج کے لیے معاون عوامل قرار دیا۔ بروکریج کے مطابق ریفائنری شعبہ نمایاں رہا، جہاں پاکستان ریفائنری لمیٹڈ نے بالائی حد کو چھوا جبکہ اٹک ریفائنری، نیشنل ریفائنری اور Cnergyico کے حصص میں بھی بہتری دیکھی گئی۔ مارکیٹ میں ریفائنری پالیسی سے متعلق توقعات کا بھی ذکر کیا گیا، تاہم ایسی توقعات کو حتمی سرکاری اعلان نہیں سمجھا جا سکتا۔

بڑے انڈیکس ویٹ رکھنے والے حصص میں FFC، UBL، MEBL، ATRL اور ENGROH نے مجموعی طور پر تقریباً 493 پوائنٹس کا اضافہ فراہم کیا۔ اسی روز آئی ایم ایف کا مشن پاکستان کے ساتھ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے اگلے جائزے پر بات چیت بھی شروع کر چکا تھا، جسے مارکیٹ شرکا نے معاشی پالیسی کے اہم پس منظر کے طور پر دیکھا۔

عالمی منڈیوں میں بھی توانائی کی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کی سپلائی سے متعلق خبروں نے سرمایہ کاروں کے رجحان پر اثر ڈالا۔ مقامی اسٹاک مارکیٹ کا آئندہ رخ بیرونی تیل قیمتوں، علاقائی کشیدگی، آئی ایم ایف مذاکرات، روپے کی قدر اور بڑی کمپنیوں کے مالی نتائج سمیت کئی عوامل سے متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے ایک دن کی تیزی کو طویل مدتی رجحان کا حتمی اشارہ نہیں سمجھا جا سکتا۔