کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) نے شریعہ اصولوں کے مطابق سرمایہ کاری کے لیے ایک مخصوص شریعہ کمپلائنٹ ٹریڈنگ کاؤنٹر شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کی جانب سے متعلقہ شریعہ ٹریڈنگ کاؤنٹر ریگولیشنز کی منظوری کے بعد کیا گیا ہے اور اس کا مقصد انفرادی اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو اسلامی مالیاتی اصولوں کے تحت تجارت کے لیے ایک الگ نظام فراہم کرنا ہے۔

PSX کے مطابق کاؤنٹر پر تجارت صرف ان حصص، سرکاری اجارہ سکوک اور کارپوریٹ سکوک تک محدود ہوگی جو شریعہ کے مطابق قرار دیے گئے ہیں۔ غیر شریعہ کمپلائنٹ سکیورٹیز کی خریداری کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسی طرح سود پر مبنی لیوریج مصنوعات، مثلاً مارجن ٹریڈنگ سسٹم، اس نظام میں بلاک ہوں گی اور ان کے مقابلے میں مرابحہ شیئر فنانسنگ کو اسلامی متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔ شارٹ سیلنگ اور ڈیریویٹوز ٹریڈنگ بھی اس کاؤنٹر میں ممنوع ہوں گی۔

لانچ کی تقریب میں SECP، اسٹیٹ بینک، سینٹرل ڈپازٹری کمپنی، نیشنل کلیئرنگ کمپنی، پاکستان اسٹاک بروکرز ایسوسی ایشن، شریعہ ماہرین اور بروکریج اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ جاری معلومات کے مطابق 39 بروکرز اسلامی ونڈوز کے ذریعے اس نظام میں شامل کیے گئے ہیں جبکہ دو مزید بروکریج ہاؤسز مکمل شریعہ کمپلائنٹ بروکرز کے طور پر لائسنس یافتہ ہیں۔

سرمایہ کاروں کے لیے PSX ڈیٹا پورٹل پر ایک نیا شریعہ پورٹل بھی قائم کیا گیا ہے جس میں شریعہ کے مطابق اہل حصص اور سکوک کی فہرست فراہم کی جائے گی۔ اکاؤنٹ کھولنے کے عمل میں شریعہ کمپلائنٹ کسٹمر ریلیشن شپ اور رسک ڈسکلوژر دستاویز استعمال کی جائے گی۔ اگر کسی سرمایہ کار کے پورٹ فولیو میں ایسی سکیورٹیز پہلے سے موجود ہوں جو بعد میں غیر کمپلائنٹ قرار پائیں تو انہیں فروخت کرنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے تاکہ پورٹ فولیو کو متعلقہ اصولوں کے مطابق کیا جا سکے۔

PSX کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو فرخ سبزواری کے مطابق نظام پر مبنی شریعہ کمپلائنس کنٹرولز سے اسلامی سرمایہ کاری تک رسائی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ SECP حکام نے بھی اسے پاکستان کی اسلامی کیپیٹل مارکیٹ کو وسیع کرنے کی سمت ایک قدم قرار دیا ہے۔

یہ کاؤنٹر روایتی اسٹاک مارکیٹ سے الگ کوئی نئی ایکسچینج نہیں بلکہ PSX کے اندر ایک مخصوص تجارتی ماحول ہے۔ اس کی عملی کامیابی کا انحصار سرمایہ کاروں کی شرکت، بروکرز کی تعمیل، اہل سکیورٹیز کی دستیابی اور ریگولیٹری نگرانی پر ہوگا۔