اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی تفصیلی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس کے موجودہ قانونی اختیارات میں ایسا جامع نظام بنانا شامل نہیں جس کے ذریعے سوشل میڈیا صارفین کے لیے لازمی عمر کی تصدیق کی جائے یا 16 سال سے کم عمر بچوں کی رسائی عمومی طور پر محدود کر دی جائے۔ رپورٹ ایک آئینی درخواست کے جواب میں جمع کرائی گئی جس میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے لیے قانون سازی اور ریگولیٹری فریم ورک کی استدعا کی گئی تھی۔

عدالت میں درخواست گزار وقاص ناصر نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بچوں کو سائبر بُلنگ، آن لائن ہراسانی اور نامناسب یا نقصان دہ مواد جیسے خطرات کا سامنا ہے، اس لیے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کو حفاظتی قانون سازی کرنی چاہیے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 31 اگست کو متعلقہ وزارتوں اور پی ٹی اے سمیت مختلف اداروں سے جواب طلب کیا تھا۔

پی ٹی اے نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ وہ بچوں کو آن لائن نقصانات سے محفوظ رکھنے کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے، لیکن پورے ملک کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی کم از کم عمر مقرر کرنا اس کے موجودہ قانونی مینڈیٹ سے باہر ہے۔ اتھارٹی کے مطابق ایک قانونی ریگولیٹر صرف وہی اختیارات استعمال کر سکتا ہے جو اسے قانون میں واضح طور پر دیے گئے ہوں، اس لیے محض انتظامی حکم کے ذریعے نیا عمر تصدیقی نظام قائم نہیں کیا جا سکتا۔

رپورٹ میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ترمیمی ایکٹ 2025 کے بعد ریگولیٹری ڈھانچے میں تبدیلی کا بھی حوالہ دیا گیا۔ پی ٹی اے نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ریگولیشن کے لیے نئی سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کیے جانے کا قانونی تصور موجود ہے اور اس عبوری صورتحال میں پی ٹی اے کی بعض ذمہ داریاں عارضی نوعیت کی ہیں۔

اتھارٹی نے تکنیکی مسائل کی بھی وضاحت کی۔ اس کے مطابق فیس بک، گوگل اور ایکس جیسے بڑے پلیٹ فارم اوور دی ٹاپ خدمات کے طور پر کام کرتے ہیں اور پی ٹی اے کے روایتی لائسنس یافتہ آپریٹرز نہیں۔ مزید یہ کہ HTTPS انکرپشن کی وجہ سے کسی مخصوص ویب پیج یا مواد کو شناخت کر کے بلاک کرنا اکثر ممکن نہیں ہوتا اور بعض حالات میں پورے پلیٹ فارم کی رسائی متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ اس نے آن لائن مواد سے متعلق لاکھوں یو آر ایل پر کارروائی کی ہے اور بچوں کے تحفظ و ڈیجیٹل آگاہی کے لیے یونیسف اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مہمات بھی چلائی ہیں۔ تاہم 16 سال کی کم از کم عمر یا لازمی شناختی تصدیق کے بارے میں اس کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ ایسی پابندی کے لیے واضح قانون سازی درکار ہوگی۔ مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالت نے ابھی نہیں دیا، اس لیے رپورٹ کو پی ٹی اے کا قانونی مؤقف سمجھا جائے، عدالتی حکم نہیں۔