اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو بتایا ہے کہ موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لازمی عمر کی تصدیق نافذ کرنے یا 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے عمومی رسائی روکنے کا اختیار حاصل نہیں۔ ڈان کے مطابق پی ٹی اے نے یہ مؤقف وقاص ناصر کی درخواست کے جواب میں جمع کرائی گئی تفصیلی رپورٹ میں اختیار کیا۔
درخواست میں کم عمر صارفین کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ پی ٹی اے نے بچوں کو آن لائن نقصانات سے محفوظ رکھنے کی اہمیت تسلیم کی، لیکن کہا کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لیے ملک گیر کم از کم عمر مقرر کرنا اس کے موجودہ قانونی مینڈیٹ سے باہر ہے۔ اتھارٹی کے مطابق وہ صرف وہی اختیارات استعمال کر سکتی ہے جو قانون نے اسے واضح طور پر دیے ہیں۔
پی ٹی اے نے تکنیکی مشکلات کی بھی نشاندہی کی۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر بڑے پلیٹ فارم HTTPS انکرپشن استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کسی مخصوص ویب صفحے یا مواد کو تیسرے فریق کے لیے الگ شناخت کر کے بلاک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بعض حالات میں مخصوص مواد روکنے کی کوشش پورے پلیٹ فارم یا ویب سائٹ تک رسائی متاثر کر سکتی ہے۔
اتھارٹی نے عدالت کو بتایا کہ سوشل میڈیا آپریٹرز سے براہ راست رابطہ ایک راستہ ہے، لیکن پلیٹ فارم اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز کے تحت درخواستوں کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ ضابطے لازماً پاکستانی قوانین کے مطابق نہیں ہوتے۔ پی ٹی اے نے مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے استعمال کو بھی مواد کی نگرانی اور بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے ایک ابھرتا ہوا چیلنج قرار دیا۔
رپورٹ میں پی ٹی اے نے اپنی نفاذی سرگرمیوں کا ریکارڈ پیش کرتے ہوئے کہا کہ 17 ملین سے زیادہ یو آر ایل پراسیس کیے گئے اور تقریباً 88.20 فیصد بلاک کیے گئے۔ اتھارٹی نے یونیسیف، ٹک ٹاک، میٹا اور جی ایس ایم اے کے ساتھ ڈیجیٹل خواندگی اور بچوں کے تحفظ سے متعلق آگاہی اقدامات کا بھی حوالہ دیا۔ پی ٹی اے نے عدالت سے درخواست کی کہ جہاں درخواست گزار کی استدعا اس کے قانونی اختیار سے باہر ہے، وہاں درخواست مسترد کی جائے۔ معاملے پر حتمی فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔
