اسلام آباد: پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) 4 سے 10 اکتوبر تک ملک بھر میں عالمی خلائی ہفتہ 2026 منائے گا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق اس سال عالمی موضوع ”راکٹ ریولوشن“ ہے، جس کے تحت راکٹ ٹیکنالوجی کی تاریخی ترقی اور جدید خلائی تحقیق میں اس کے کردار کو اجاگر کیا جائے گا۔

سپارکو 2005 سے پاکستان میں عالمی خلائی ہفتے کا قومی رابطہ کار ہے۔ ادارے کے مطابق تقریبات کا مقصد طلبہ، اساتذہ، خلائی سائنس میں دلچسپی رکھنے والے افراد اور عام شہریوں میں خلائی سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق سے متعلق آگاہی بڑھانا ہے۔ قومی سطح پر بیسٹ اسپیس اسکول اور اسپیس ایمبیسیڈر مقابلوں کے ساتھ کامک بک ڈیزائن، ”ڈیزائن یور راکٹ“ اور آسٹرو فوٹوگرافی کے مقابلے بھی منعقد کیے جائیں گے۔

کراچی میں خلائی راکٹوں کی ترقی، گہرے خلائی مشنز، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور جی این ایس ایس نیویگیشن سے متعلق سیمینارز ہوں گے۔ لاہور میں سیٹلائٹ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر اساتذہ کے لیے تربیتی نشست اور ”اپنا راکٹ ڈیزائن اور تھری ڈی پرنٹ کریں“ کے عنوان سے عملی ورکشاپ منعقد کرے گا۔ گلگت بلتستان میں اسکولوں کے درمیان راکٹوں کی تاریخ پر پوسٹر مقابلہ بھی پروگرام کا حصہ ہے۔

سپارکو کی موبائل اسپیس وین اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے اسکولوں کا دورہ کرے گی تاکہ طلبہ کو عملی اور موضوعاتی سرگرمیوں کے ذریعے خلائی سائنس سے متعارف کرایا جا سکے۔ یونیورسٹی طلبہ کے لیے راکٹ سسٹم ڈیزائن اور مستقبل کے چیلنجز پر اختراعی مقابلہ اور سیٹلائٹ ڈیزائن اینڈ بلڈ ہیکاتھون بھی منعقد کیے جائیں گے۔ چارسدہ اور مردان کی جامعات میں خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی پر لیکچرز کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

آن لائن سطح پر ویبینارز، سوشل میڈیا سرگرمیاں اور ایک قابل ڈاؤن لوڈ ریسورس کٹ فراہم کی جائے گی، جس میں کوئز، کلرنگ بک اور گھر یا کلاس روم میں کی جانے والی خلائی سرگرمیاں شامل ہوں گی۔ عالمی خلائی ہفتہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1999 میں مقرر کیا تھا اور ہر سال 4 سے 10 اکتوبر منایا جاتا ہے۔ یہ تاریخیں 1957 میں اسپٹنک-1 کے لانچ اور 1967 میں آؤٹر اسپیس ٹریٹی کے نافذ ہونے کی یاد دلاتی ہیں۔