اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) کو اپنے ڈیجیٹل ٹیلی کام برانڈ اونک کی نئی فروخت، ایکٹیویشن، سم اور ای سم اجرا، نئی سبسکرپشن، مارکیٹنگ اور کمرشل آپریشنز فوری طور پر روکنے کا حکم دیا ہے۔ ریگولیٹر نے قرار دیا کہ اونک کا موجودہ آپریشنل ڈھانچہ محض روایتی برانڈ انتظام سے آگے بڑھ کر موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر (ایم وی این او) کی خصوصیات رکھتا ہے اور اسے متعلقہ ریگولیٹری فریم ورک کے مطابق باقاعدہ اجازت درکار ہے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق پی ٹی اے نے سماعت کے بعد پی ٹی ایم ایل کی نمائندگی نمٹاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اونک کا برانڈ، بنیادی موبائل نیٹ ورک، اسپیکٹرم اور نمبرنگ وسائل پی ٹی ایم ایل کے پاس ہیں، لیکن سروس کا علیحدہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم، مخصوص پیکجز، الگ کسٹمر مینجمنٹ و بلنگ سسٹم اور تیسرے فریق کے ذریعے اہم تجارتی و صارف رابطہ سرگرمیاں اسے عام برانڈ سے مختلف بناتی ہیں۔

ریگولیٹر نے خاص طور پر ڈی ٹی ایم ایس نامی ادارے کے کردار کی نشاندہی کی، جو مارکیٹنگ، صارفین کے حصول، شناختی تصدیق سے متعلق عمل، سم لاجسٹکس، فروخت اور کسٹمر سروس سمیت کئی سرگرمیوں میں شامل ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق اس تجارتی بندوبست اور ریونیو شیئرنگ کی نوعیت ایم وی این او پالیسی فریم ورک 2025 کے تحت مزید باقاعدہ ریگولیٹری تعمیل کا تقاضا کرتی ہے۔

موجودہ اونک صارفین کی سروس اچانک منقطع ہونے سے بچانے کے لیے پی ٹی اے نے پی ٹی ایم ایل کو حکم موصول ہونے کے بعد تین ماہ کی مدت صرف صارفین کو پی ٹی ایم ایل پر منتقل کرنے کے لیے دی ہے۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ یہ مہلت نئے صارفین لینے یا موجودہ شکل میں اونک کے تجارتی آپریشنز جاری رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

پی ٹی اے نے پی ٹی ایم ایل کو دو راستے دیے ہیں۔ کمپنی اونک کو اس طرح ازسرنو منظم کر سکتی ہے کہ وہ واضح طور پر پی ٹی ایم ایل کے موجودہ موبائل نیٹ ورک آپریٹر لائسنس کے تحت ایک داخلی برانڈ یا پروڈکٹ رہے اور ایم وی این او جیسی آزاد آپریشنل خصوصیات ختم کر دی جائیں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ موجودہ ایم وی این او طرز کے ڈھانچے کو برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ کمپنی باقاعدہ ایم وی این او لائسنس حاصل کرے۔

ریگولیٹر نے صارفین کے ڈیٹا، سم اجرا و کے وائی سی، بلنگ، کال ڈیٹیل ریکارڈ، قانونی انٹرسیپشن، ڈیٹا لوکلائزیشن، سکیورٹی، سروس کے معیار، ڈیزاسٹر ریکوری اور تھرڈ پارٹی انتظامات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ پی ٹی ایم ایل کو سات ورکنگ دنوں میں جامع کمپلائنس رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ پاکستان کی ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل فرسٹ موبائل اور ایم وی این او مارکیٹ کے لیے اہم نظیر بن سکتا ہے، کیونکہ اس میں ریگولیٹر نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی سروس کا مالکانہ نام یا بنیادی نیٹ ورک ایک لائسنس یافتہ آپریٹر کے پاس ہونا کافی نہیں؛ اصل تجارتی اور آپریشنل ساخت بھی متعلقہ لائسنسنگ ضوابط کے مطابق ہونی چاہیے۔