اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی کے فیصلہ سازی کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلی اور کور کمیٹی کے اختیارات کسی دوسرے فورم کو منتقل کیے جانے کی اطلاعات مسترد کر دی ہیں۔ پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کے مطابق کور کمیٹی، سیاسی کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی الگ فورمز ہیں اور ہر ایک کی ذمہ داریاں مختلف ہیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ تنظیمی اور سیاسی فیصلے کور اور سیاسی کمیٹیوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جبکہ پارلیمانی پارٹی قانون سازی اور پارلیمانی معاملات دیکھتی ہے۔ ان کے مطابق پارلیمانی پارٹی کی سفارشات کو اہمیت دی جاتی ہے اور ضرورت کے مطابق متعلقہ کمیٹیوں کے سامنے بھیجا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حتمی اختیار پارٹی بانی عمران خان کے پاس ہے، جنہوں نے مختلف کمیٹیوں کو اختیارات تفویض کیے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما نعیم حیدر پنجوتھا نے ڈان کو بتایا کہ ایک اجلاس میں بیرسٹر علی ظفر نے پارلیمانی کمیٹی کو مضبوط بنانے کی تجویز دی تھی، تاہم یہ صرف سفارش تھی اور اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق سیاسی کمیٹی کو فیصلے کرنے کا اختیار دیا گیا تھا جبکہ کور کمیٹی کو بھی حتمی فیصلوں سے پہلے اعتماد میں لینے کی ہدایت موجود ہے۔
پنجوتھا نے پارٹی کے اندر مختلف فورمز کے قیام کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ کور کمیٹی کی بڑی رکنیت کے باعث فیصلہ سازی مشکل ہو سکتی تھی، جس کی وجہ سے سیاسی کمیٹی بنائی گئی تاکہ فیصلوں میں سہولت ہو اور اندرونی گفتگو کے افشا ہونے کے امکانات کم ہوں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سیاسی کمیٹی میں پارٹی کی تنظیمی اکائیوں کے سربراہان کو شامل کرنے کی تجویز زیر بحث رہی ہے۔
پارٹی رہنماؤں کے یہ بیانات اندرونی تنظیمی صورتحال سے متعلق پی ٹی آئی کا باضابطہ مؤقف ہیں۔ دستیاب رپورٹ میں کسی تحریری نئے تنظیمی نوٹیفکیشن یا کمیٹیوں کے اختیارات تبدیل کرنے کے حتمی حکم کا ذکر نہیں، اس لیے پارلیمانی کمیٹی کو اختیارات منتقل ہونے کی خبر کو تصدیق شدہ تنظیمی تبدیلی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اسی بیان میں پی ٹی آئی نے عمران خان، بشریٰ بی بی اور دیگر زیر حراست رہنماؤں کے قانونی و آئینی حقوق سے متعلق اپنے مطالبات بھی دہرائے۔ پارٹی نے طبی سہولت اور اہل خانہ، وکلا اور سیاسی ساتھیوں سے ملاقاتوں کی اجازت کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبات اور زیر حراست افراد کے بارے میں پارٹی کے دعوے سیاسی مؤقف ہیں؛ ان سے متعلق قانونی معاملات متعلقہ عدالتوں اور حکام کے دائرہ کار میں ہیں۔

