لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب صاف پانی اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ صوبے میں 5,734 واٹر فلٹریشن پلانٹس جون 2027 تک مکمل کیے جائیں۔ یہ ہدایت صاف پانی کی فراہمی سے متعلق اجلاس میں دی گئی، جس میں فلٹریشن پلانٹس کی نگرانی، مرمت اور دور دراز یا زیادہ متاثرہ علاقوں تک پانی پہنچانے کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ نے ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر پلانٹس کی نگرانی کا نظام مضبوط بنانے پر زور دیا۔ متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز کو فلٹریشن پلانٹس کی مانیٹرنگ کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ان کی نگرانی میں عوامی کمیٹیاں بھی قائم کی جائیں گی تاکہ مقامی سطح پر پلانٹس کے فعال رہنے اور پانی کی دستیابی کی جانچ کی جا سکے۔

اجلاس میں ہر تحصیل میں موبائل مینٹیننس یونٹس قائم کرنے کا بھی فیصلہ ہوا۔ ان یونٹس میں پلمبرز اور دیگر تکنیکی عملہ شامل ہوگا تاکہ خرابی کی صورت میں فلٹریشن پلانٹس کی مرمت اور بحالی بروقت کی جا سکے۔ حکومت کا مقصد یہ ہے کہ صرف نئے پلانٹس نصب نہ ہوں بلکہ موجودہ اور نئے دونوں نظام مسلسل فعال رہیں اور شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی میں طویل تعطل نہ آئے۔

وزیراعلیٰ نے چکوال، راجن پور اور راولپنڈی کے زیادہ متاثرہ علاقوں کے لیے لاسٹ مائل واٹر سپلائی پراجیکٹ کی منظوری بھی دی۔ رپورٹ کے مطابق چکوال میں 256 کلومیٹر اور راجن پور میں 1,780 کلومیٹر پر محیط پانی کی فراہمی کی اسکیموں کو ترجیح دی جائے گی۔ یہ منصوبے ان آبادیوں تک پانی پہنچانے کے لیے بنائے گئے ہیں جہاں روایتی نیٹ ورک یا دستیاب ذرائع ناکافی ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ خوشاب، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان اور بہاولپور میں پانی کی بوتلیں تیار کرنے والے پلانٹس بھی کام کر رہے ہیں، جن کی یومیہ پیداوار 19 لیٹر کی دس ہزار بوتلیں بتائی گئی۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ اس منصوبے سے 48 لاکھ افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں اور 75 ہزار سے زیادہ بوتلیں گھروں تک پہنچائی جا چکی ہیں۔ یہ اعداد سرکاری بریفنگ میں پیش کیے گئے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں شامل نہیں۔

پنجاب میں صاف پانی کی فراہمی طویل عرصے سے شہری اور دیہی انفراسٹرکچر کا اہم مسئلہ رہی ہے۔ نئے اہداف کی کامیابی کا انحصار تعمیر کے ساتھ ساتھ مستقل دیکھ بھال، پانی کے معیار کی نگرانی اور مقامی انتظامیہ کی جواب دہی پر ہوگا۔ جون 2027 کی مقررہ مدت حکومت کے لیے واضح پیمانہ فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے منصوبے کی عملی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے گا۔