کراچی: شہر کی اہم آبی گزرگاہ نہرِ خیام پر مجوزہ تعمیرات کے خلاف شہری حلقوں کے احتجاج میں کراچی سٹی کونسل کی اپوزیشن بھی شامل ہو گئی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے نہر کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے یا اس پر ایسی تعمیرات کی مخالفت کی ہے جو ان کے بقول قدرتی نکاسی آب کی صلاحیت متاثر کر سکتی ہیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق سٹی کونسل کے اپوزیشن لیڈر نے منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کسی بھی مستقل تعمیراتی فیصلے سے پہلے ماہرین سے تکنیکی جائزہ کرایا جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ کراچی میں بارشوں کے دوران پانی کے اخراج کے لیے قدرتی نالوں اور آبی راستوں کی گنجائش پہلے ہی ایک حساس مسئلہ ہے، اس لیے نہرِ خیام میں مداخلت کے اثرات کو انجینئرنگ اور ماحولیاتی بنیادوں پر جانچنا ضروری ہے۔
احتجاج میں شریک حلقوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر نہر کے فعال حصے میں تعمیرات، بھرائی یا کمرشل سرگرمیاں بڑھیں تو پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ خدشات اپوزیشن اور مظاہرین کے مؤقف کا حصہ ہیں؛ کسی حتمی تکنیکی نتیجے کے لیے متعلقہ انجینئرنگ، ہائیڈرولوجیکل اور ماحولیاتی مطالعات درکار ہوں گے۔
نہرِ خیام کراچی کے کلفٹن کے علاقے میں واقع ایک نمایاں آبی راستہ ہے اور ماضی میں اس کی صفائی، بحالی اور شہری خوبصورتی سے متعلق مختلف تجاویز سامنے آتی رہی ہیں۔ موجودہ تنازع میں بنیادی سوال یہ ہے کہ بحالی یا ترقیاتی کام کی نوعیت کیا ہوگی، اس سے نکاسی آب کی موجودہ صلاحیت پر کیا اثر پڑے گا اور کیا منصوبے میں عوامی جگہ کے بجائے تجارتی استعمال کا عنصر شامل ہوگا۔
اپوزیشن نے متعلقہ شہری اداروں سے منصوبے کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے، اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے اور کسی بھی تعمیر سے پہلے شفاف تکنیکی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ شہری منصوبہ بندی کے ایسے منصوبوں میں زمین کے استعمال، ماحولیاتی اثرات، بارش کے پانی کی نکاسی اور عوامی رسائی کے معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں، اس لیے مختلف اداروں کی منظوری اور ضابطہ جاتی تقاضے بھی اہم رہیں گے۔
دستیاب رپورٹ میں کسی حتمی عدالتی حکم، منصوبے کی مکمل منسوخی یا تعمیراتی سرگرمی روکنے کے قطعی سرکاری فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس مرحلے پر تصدیق شدہ پیش رفت اپوزیشن کی احتجاج میں شمولیت، کمرشلائزیشن کی مخالفت اور تکنیکی جائزے کے مطالبے تک محدود ہے۔ منصوبے کی آئندہ حیثیت متعلقہ بلدیاتی و صوبائی اداروں کے فیصلوں اور ممکنہ ماحولیاتی یا تکنیکی جائزوں کے بعد واضح ہوگی۔
