کراچی: شہر کے کئی علاقوں کو بجلی کی لوڈشیڈنگ سے استثنا دیا گیا ہے، اور اس پیش رفت کو صارفین کی بروقت بل ادائیگی اور بجلی چوری میں کمی سے منسلک کیا گیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق متعلقہ علاقوں میں ادائیگی کے بہتر رجحان اور بجلی کے نقصانات محدود کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں فراہمی کے شیڈول میں بہتری آئی ہے۔

کراچی میں بجلی کی فراہمی طویل عرصے سے مختلف علاقوں کے نقصانات، ریکوری کی شرح، تکنیکی مسائل اور مجموعی طلب کے مطابق مختلف رہی ہے۔ بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کے لیے ایسے علاقوں میں مسلسل فراہمی نسبتاً آسان ہوتی ہے جہاں بلوں کی وصولی زیادہ اور غیر قانونی کنکشن یا چوری کم ہو، جبکہ زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر مالی اور تکنیکی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

نئے استثنا کا مطلب یہ ہے کہ مخصوص علاقوں میں معمول کی طے شدہ لوڈشیڈنگ ختم یا محدود کی گئی ہے۔ تاہم اسے پورے کراچی میں لوڈشیڈنگ کے مکمل خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ تکنیکی خرابی، ہنگامی مرمت، قومی گرڈ کی صورتحال یا غیر معمولی طلب کے باعث بجلی کی فراہمی میں عارضی خلل پھر بھی ممکن ہے۔

یہ پیش رفت صارفین کے رویے اور بجلی کی فراہمی کے درمیان تعلق کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ اگر کسی علاقے میں زیادہ تر صارفین بروقت بل ادا کریں اور بجلی چوری کم ہو تو تقسیم کار ادارے کے لیے مالی نقصانات محدود رہتے ہیں۔ دوسری جانب، زیادہ چوری اور کم وصولی والے علاقوں میں کمپنیوں کی جانب سے نقصانات پر قابو پانے کے لیے مختلف انتظامی اقدامات کیے جاتے ہیں، جن پر صارفین اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان بحث بھی ہوتی رہی ہے۔

بجلی چوری کے خلاف کارروائی میں غیر قانونی کنکشن ختم کرنا، میٹرنگ بہتر بنانا، واجبات کی وصولی اور مقامی سطح پر آگاہی شامل ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ درست بلنگ، شکایات کے بروقت ازالے اور قانونی صارفین کو قابل اعتماد فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ ادائیگی کی حوصلہ افزائی ہو اور اجتماعی نقصان کے باعث باقاعدہ بل ادا کرنے والے صارفین متاثر نہ ہوں۔

کراچی کے جن علاقوں کو استثنا ملا ہے وہاں اس پالیسی کی پائیداری مستقبل کی ریکوری اور نقصانات کے رجحان سے وابستہ رہ سکتی ہے۔ صارفین کے لیے اہم بات یہ ہوگی کہ بہتر ادائیگی اور چوری میں کمی کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی کا معیار مستقل طور پر بہتر رہتا ہے یا نہیں۔ موجودہ پیش رفت کم از کم یہ ظاہر کرتی ہے کہ بعض علاقوں میں کارکردگی کے اشاریوں میں بہتری کے بعد لوڈشیڈنگ کے شیڈول میں عملی تبدیلی کی گئی ہے۔