کراچی: پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کے حوالے سے نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 24.35 فیصد گھرانے مناسب اور مسلسل خوراک تک رسائی کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ بزنس ریکارڈر میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان ڈویلپمنٹ پلس کے اعداد و شمار ملک میں گھریلو سطح پر خوراک کی دستیابی، قوت خرید اور غذائی تحفظ کے درمیان بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
غذائی عدم تحفظ کا مطلب صرف خوراک کی مجموعی قومی پیداوار میں کمی نہیں ہوتا بلکہ یہ اس صورتحال کو بھی ظاہر کرتا ہے جس میں خاندان اپنی آمدن اور دستیاب وسائل کے ذریعے مستقل طور پر مناسب مقدار اور معیار کی غذا حاصل نہیں کر پاتے۔ اس تناظر میں 24.35 فیصد کا تناسب اس مسئلے کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ معاشی استحکام کے بڑے اشاریوں کے ساتھ گھریلو سطح کے حالات کا جائزہ بھی ضروری ہے۔
رپورٹ میں سامنے آنے والی صورتحال ایسے وقت اہم ہے جب پاکستان میں خوراک، توانائی، رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کے اخراجات گھریلو بجٹ پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔ کم آمدن والے گھرانے قیمتوں میں اضافے سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کی مجموعی آمدن کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ ہوتا ہے۔ آمدن میں محدود اضافہ یا روزگار میں عدم استحکام کی صورت میں خاندان خوراک کی مقدار، معیار یا تنوع میں کمی کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
غذائی تحفظ کا مسئلہ بچوں اور خواتین کی صحت، تعلیم اور طویل مدتی انسانی ترقی سے بھی جڑا ہے۔ اگر گھرانے مسلسل غذائی دباؤ کا شکار رہیں تو بچوں کی جسمانی نشوونما، تعلیمی کارکردگی اور بیماریوں کے مقابلے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم کسی مخصوص طبی یا غذائی نتیجے کو صرف اس ایک تناسب سے اخذ نہیں کیا جا سکتا؛ اس کے لیے الگ صحت اور غذائیت کے اعداد و شمار درکار ہوتے ہیں۔
پالیسی سطح پر اس قسم کے اعداد و شمار سماجی تحفظ، زرعی پیداوار، خوراک کی رسد، قیمتوں کے استحکام اور روزگار کی حکمت عملی کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی ضرورت اجاگر کرتے ہیں۔ نقد امداد یا سبسڈی فوری دباؤ کم کر سکتی ہے، لیکن مستقل غذائی تحفظ کے لیے آمدن کے مواقع، مقامی پیداوار، منڈیوں تک رسائی اور مؤثر سماجی تحفظ بھی اہم ہیں۔
رپورٹ میں بیان کردہ 24.35 فیصد کو ایک مخصوص جائزے کا نتیجہ سمجھنا چاہیے، نہ کہ ہر ضلع یا ہر آبادی کے لیے یکساں شرح۔ صوبوں، شہری اور دیہی علاقوں اور آمدنی کے مختلف گروہوں میں حالات مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود قومی سطح پر تقریباً ایک چوتھائی گھرانوں کا غذائی عدم تحفظ سے متاثر ہونا پالیسی سازوں کے لیے ایک نمایاں سماجی اور معاشی چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے۔

