لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے میں 33 موبائل پولیس اسٹیشنز کا آغاز کر دیا ہے جن کے ذریعے شہریوں کو پولیس اور متعلقہ دستاویزی خدمات ان کے علاقوں کے قریب فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس سروس کا افتتاح کیا۔ سرکاری بریفنگ کے مطابق ہر موبائل یونٹ 14 اہم خدمات فراہم کرے گا جن میں ایف آئی آر کے لیے شکایت کا اندراج، آن لائن ای ٹیگنگ، کرایہ دار رجسٹریشن، ملازمین کی تصدیق اور فوجداری ریکارڈ چیک شامل ہیں۔
صوبائی ہوم سیکریٹری احمد جاوید قاضی کے مطابق 33 میں سے چھ یونٹس خواتین کو درپیش مسائل کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں۔ ان ’پنک موبائل پولیس اسٹیشنز‘ میں ہراسمنٹ، گھریلو تشدد اور خواتین و بچوں کے خلاف جرائم جیسے حساس معاملات سنبھالنے کے لیے خصوصی عملہ تعینات کیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمات میں رازداری اور متاثرہ افراد کے ساتھ مناسب طرزِ عمل کو آپریشنل طریقہ کار کا حصہ بنایا گیا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق ہر موبائل پولیس اسٹیشن کی سربراہی سب انسپکٹر کرے گا، جبکہ فیلڈ سپروائزر، سینئر اسٹیشن اسسٹنٹ اور مرد و خواتین کانسٹیبلز بھی یونٹ کا حصہ ہوں گے۔ متعلقہ تھانے کا ایس ایچ او اور بیٹ افسر فیلڈ میں کارروائی کی نگرانی کریں گے تاکہ خدمات مقررہ ایس او پیز کے مطابق فراہم کی جا سکیں۔
شہری ایف آئی آر کے لیے درخواست جمع کرانے پر فوری آن لائن ای ٹیگ حاصل کر سکیں گے جس کے ذریعے بعد میں شکایت کی پیش رفت دیکھی جا سکے گی۔ ان موبائل یونٹس میں گم شدہ شناختی کارڈ یا چیک بک جیسی دستاویزات کی رپورٹ بھی درج کرائی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ کردار سرٹیفکیٹ، لرنر ڈرائیونگ پرمٹ، لائسنس کی تجدید، ڈپلیکیٹ لائسنس اور بین الاقوامی ڈرائیونگ پرمٹ سے متعلق خدمات بھی فراہم کی جائیں گی۔
حکومت کے مطابق موبائل وینز مقررہ شیڈول کے تحت جامعات اور خواتین کالجوں کا دورہ کریں گی، جبکہ دیگر علاقوں میں تعیناتی کے فیصلے حقیقی وقت کے جرائم کے ڈیٹا اور پولیس ہیلپ لائن 15 پر موصول ہونے والی کالز کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔ وینز کے روٹس اور اوقات سوشل میڈیا کے ذریعے جاری کیے جائیں گے اور بعض علاقوں میں مقامی اعلانات بھی کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد خاص طور پر دور دراز اور کم سہولت یافتہ علاقوں کے شہریوں کے وقت اور سفری اخراجات میں کمی لانا اور پولیس خدمات تک رسائی آسان بنانا ہے۔ منصوبے کی عملی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ موبائل یونٹس مقررہ شیڈول، عملے کی دستیابی، ڈیجیٹل نظام اور شکایات کی فالو اپ نگرانی کو کتنے مؤثر انداز میں برقرار رکھتے ہیں۔

