لاہور: پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ صوبے میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف مہم کے دوران 54 افسروں اور اہلکاروں کے خلاف مختلف نوعیت کی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر جاری سرکاری ہینڈآؤٹ کے مطابق ان اقدامات میں ملازمت سے برطرفی، محکمانہ کارروائی کا آغاز، گرفتاری اور مقدمہ درج کرنا شامل ہیں۔ یہ تمام اصطلاحات الگ قانونی و انتظامی مراحل کی نمائندگی کرتی ہیں؛ کارروائی کا سامنا کرنے والے ہر شخص کے خلاف یکساں نتیجہ یا عدالتی سزا ثابت نہیں ہوئی۔
سرکاری تفصیل میں بتایا گیا کہ مجموعی کارروائی کا بڑا حصہ محکمۂ خوراک سے متعلق ہے، جہاں 48 افسروں اور اہلکاروں کے خلاف مبینہ بدعنوانی پر کسی نہ کسی درجے کا اقدام کیا گیا۔ بہاولپور میں فوڈ گرین انسپکٹروں اور دوسرے اہلکاروں، جبکہ گوجرانوالہ میں اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولروں، کلرک اور دیگر عملے کو ملازمت سے برطرف کرنے کا بتایا گیا۔ سرگودھا، ملتان، ڈیرہ غازی خان، گجرات اور فیصل آباد میں بھی فوڈ گرین انسپکٹروں، ایک اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر، چوکیداروں یا متعلقہ عملے کے خلاف برطرفی یا دوسری محکمانہ کارروائی کی تفصیل دی گئی ہے۔
محکمۂ خوراک نے 14 فوڈ کنٹرولروں کے خلاف الگ سے محکمانہ کارروائی شروع کی ہے۔ سرکاری ہینڈآؤٹ میں بہاولنگر، اوکاڑہ، نارووال، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان، میانوالی، ساہیوال، گجرات، اٹک، چکوال، لیہ اور گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے افسران کا ذکر کیا گیا۔ محکمانہ کارروائی کا آغاز الزام کی انتظامی جانچ ہے؛ اسے حتمی جرم، سزا یا عدالتی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ متعلقہ افراد کو قابلِ اطلاق سروس قواعد اور قانونی طریقۂ کار کے تحت جواب دینے کا حق حاصل ہوگا۔
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی الگ کارروائیوں میں بھی متعدد سرکاری اہلکار گرفتار کیے گئے۔ ہینڈآؤٹ کے مطابق وہاڑی میں یونین کونسل سیکریٹری ریاض احمد کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا گیا۔ شیخوپورہ میں میونسپل کارپوریشن کے سینئر کلرک محمد اشرف کو مبینہ طور پر رنگے ہاتھوں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ فیصل آباد میں ایک ٹریپ ریڈ کے دوران کمپیوٹر آپریٹر زین الاسلام اور یونین کونسل سیکریٹری محمد اسلم، بہاولنگر میں غلام مرتضیٰ اور منڈی بہاؤالدین میں لوکل گورنمنٹ کے جونیئر کلرک مدثر اقبال کی گرفتاری بتائی گئی۔ گوجرانوالہ میں پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے فیلڈ افسر قمر زمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کیے جانے کی اطلاع بھی دی گئی۔
گرفتاری یا مقدمہ اندراج الزام کی تفتیشی سطح ہے اور یہ بذاتِ خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ دستیاب سرکاری بیان میں ہر کیس کی ایف آئی آر، مبینہ رقم، ثبوت، عدالت میں پیشی، ضمانت یا ملزمان کے مؤقف کی الگ تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ اسی وجہ سے رپورٹ میں ان کارروائیوں کو حکومت اور اینٹی کرپشن ادارے کے دعووں سے منسوب رکھا گیا ہے، جبکہ حتمی قانونی ذمہ داری عدالت یا مجاز فورم کے فیصلے سے طے ہوگی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ انسدادِ بدعنوانی مہم کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور صوبائی انتظامیہ میں بدعنوان عناصر کے لیے رعایت نہیں ہوگی۔ حکومتی اعلان کے بعد یہ جانچنا بھی اہم ہوگا کہ محکمانہ انکوائریاں مقررہ طریقۂ کار کے مطابق مکمل ہوتی ہیں، مقدمات میں شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور بے ضابطگیوں سے متعلق رقوم یا سرکاری نقصان کی وصولی کا کوئی الگ نتیجہ سامنے آتا ہے یا نہیں۔ یہ رپورٹ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور آج انگلش کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹس سے مرتب اور باہمی طور پر جانچی گئی ہے۔




