لاہور: پنجاب حکومت نے زرعی شعبے میں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھانے کی سمت کام شروع کیا ہے، جس کا مقصد کسانوں کو بہتر فیصلوں میں مدد دینا، زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا اور آمدن بہتر بنانا ہے۔ صوبائی پارلیمانی سیکریٹری برائے زراعت اسامہ لغاری نے لاہور ایکسپو سینٹر میں پاکستان ایگریکلچرل کولیشن کی ایگری کنیکشنز کانفرنس اور ایکسپو سے خطاب میں اس حکمت عملی کا ذکر کیا۔

صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ زرعی شعبے میں ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کی منتقلی روایتی طریقہ کار کو زیادہ مؤثر بنا سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال موسم، فصل کی حالت، آبپاشی، بیماریوں یا کیڑوں کے خطرات اور منڈی سے متعلق معلومات کے تجزیے میں کیا جاسکتا ہے، تاہم ہر مخصوص نظام کی افادیت اس کے ڈیٹا، مقامی حالات اور کسان تک رسائی کے طریقہ کار پر منحصر ہوگی۔

حکومت کی جانب سے پیش کردہ سمت کا مرکزی نکتہ ٹیکنالوجی کو محض تجرباتی منصوبوں تک محدود رکھنے کے بجائے کسان کی روزمرہ زندگی اور فیصلہ سازی سے جوڑنا ہے۔ پاکستان کے زرعی شعبے میں چھوٹے اور درمیانے کسانوں کی بڑی تعداد کے باعث کسی بھی ڈیجیٹل پروگرام کی کامیابی کے لیے مقامی زبان، قابل اعتماد مشورے، رابطہ سہولت اور تربیت اہم عوامل ہوں گے۔

کانفرنس میں زرعی پیداوار اور کسانوں کی آمدن بہتر بنانے کے لیے ڈیٹا کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ تاہم دستیاب رپورٹنگ میں کسی ایک مخصوص اے آئی پلیٹ فارم، نفاذ کی حتمی تاریخ یا صوبے بھر کے لیے مکمل بجٹ کی تفصیل بیان نہیں کی گئی، اس لیے منصوبے کو موجودہ مرحلے میں پالیسی سمت اور زیرعمل ٹیکنالوجی انضمام کے طور پر دیکھنا مناسب ہے۔

پنجاب پاکستان کا بڑا زرعی صوبہ ہے اور گندم، چاول، کپاس، مکئی، گنا اور متعدد باغبانی فصلوں کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال سے ممکنہ فوائد کے ساتھ ڈیٹا کے معیار، ڈیجیٹل رسائی، لاگت اور زمینی سطح پر توسیعی خدمات جیسے عملی چیلنج بھی موجود رہیں گے۔

حکومت نے اس اقدام کو زرعی شعبے کی تکنیکی تبدیلی سے جوڑا ہے۔ آئندہ مرحلے میں یہ واضح ہوگا کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق خدمات کس پیمانے پر، کن اضلاع یا فصلوں میں اور کس طریقے سے کسانوں کو فراہم کی جاتی ہیں۔