لاہور: پنجاب کابینہ نے صنعتی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے ایک بڑے پروگرام کی اہم خصوصیات منظور کر لی ہیں، جس کے تحت مجموعی طور پر 1.995 ٹریلین روپے کی سرمایہ کاری اور ایک لاکھ 62 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف پیش کیا گیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت کابینہ کے 37ویں اجلاس میں سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے پروگرام پیش کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 1.089 ٹریلین روپے صوبائی حکومت جبکہ 906 ارب روپے نجی شعبے سے متوقع ہیں۔

سرکاری بریفنگ کے مطابق پروگرام صنعتی انفراسٹرکچر، صنعتی کلسٹرز، برآمدی مسابقت، ویلیو چین کی تبدیلی، زراعت و لائیوسٹاک میں مشینری کے استعمال اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر توجہ دے گا۔ اس میں موجودہ صنعتوں کی معاونت، ای بزنس و ای کامرس، گارمنٹس، پلگ اینڈ پلے سہولتوں اور لیدر، فٹ ویئر، کھیلوں کے سامان، کٹلری، ہاتھ کے اوزار، سیرامکس اور پنکھوں کی صنعت کے لیے ٹیسٹنگ و سرٹیفکیشن سہولتیں بھی شامل بتائی گئی ہیں۔

پروگرام کے تحت سرگودھا، خانیوال، اوکاڑہ اور بھکر میں زرعی پروسیسنگ پارکس قائم کرنے کی تجویز ہے، جبکہ گندم، گوشت، دودھ، ترش پھل، آلو اور آم کی ویلیو ایڈیشن، سیاحت، آبی زراعت اور مہارتوں کی ترقی بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔ کابینہ نے 20 اضلاع میں ہارٹیکلچر اتھارٹیز کے قیام، گرین ٹریکٹر پروگرام کے مختلف مراحل کے لیے سبسڈی اور تھل میں زرعی تبدیلی کے منصوبے کے لیے معاونت کی بھی منظوری دی۔

اسی اجلاس میں رہائش، صحت، ٹرانسپورٹ، فضائی معیار، تعلیم اور مقامی ترقی سے متعلق متعدد دیگر فیصلے بھی کیے گئے۔ ان میں اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے لیے بینک آف پنجاب کے ذریعے قرضوں، سرکاری اسکولوں میں ٹیچنگ انٹرنز کی بھرتی، تحصیل سطح پر الیکٹرک بسوں کے انتظامات اور مختلف ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ تاہم 1.995 ٹریلین روپے کی رقم پروگرام میں تصور کی گئی مجموعی سرمایہ کاری ہے؛ اسے فوری طور پر خرچ شدہ رقم یا پہلے سے حاصل شدہ نجی سرمایہ کاری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ روزگار کا عدد بھی پروگرام کا تخمینہ اور ہدف ہے، حتمی نتیجہ نہیں۔