اسلام آباد/کراچی: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ایس ای فروٹس اینڈ ویجیٹیبل لمیٹڈ کی ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے پراسپیکٹس میں کیے گئے انکشافات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق کمیشن کا کہنا ہے کہ انکوائری کا مقصد فراہم کردہ معلومات کی درستگی اور مکمل ہونے کا جائزہ لینا، ممکنہ خلا، omission یا غفلت کی نشاندہی کرنا اور اگر کوئی ذمہ داری بنتی ہو تو اسے طے کرنا ہے۔ تحقیقات کا آغاز بذاتِ خود کسی فریق کے خلاف خلاف ورزی ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔
ایس ای سی پی کے بیان کے مطابق انکوائری میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے بطور فرنٹ لائن ریگولیٹر کردار، ایشو کنسلٹنٹ کی جانب سے کی گئی ڈیو ڈیلیجنس، پراسپیکٹس کی تیاری اور اس کی درستگی کی تصدیق، اور کمپنی کے مالی بیانات کے بارے میں آڈیٹر کے کام کا جائزہ لیا جائے گا۔ کمیشن اپنی داخلی جانچ اور آئی پی او درخواستوں کی منظوری کے طریقہ کار کو بھی پرکھے گا۔
ریگولیٹر نے کہا ہے کہ تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر آئی پی او کے جائزے اور منظوری کے فریم ورک میں بہتری لائی جائے گی۔ ممکنہ اقدامات میں ضروری معلومات کے درست اور کافی انکشاف کو یقینی بنانا، آڈیٹرز اور کنسلٹنٹس کی جواب دہی مضبوط کرنا، اہم معاملات کی بروقت نشاندہی اور رپورٹنگ، اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج و ایس ای سی پی کے درمیان رابطہ بہتر بنانا شامل ہو سکتا ہے۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ ہر آئی پی او کو انکشاف، شفافیت، جانچ اور جواب دہی کے واضح معیار پر پورا اترنا چاہیے۔ ان کے مطابق جہاں ناکامی ثابت ہوئی وہاں کارروائی کی جائے گی اور انکوائری کے نتائج سے منظوری کے نظام میں موجود خلا بند کرنے کی کوشش ہوگی۔ کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ اس مرحلے پر کسی مخصوص شخص یا ادارے کی غفلت ثابت نہیں ہوئی؛ انکوائری اسی سوال کا تعین کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے، اس لیے رپورٹ میں تحقیقات اور حتمی نتیجے کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا گیا ہے۔
