وفاقی حکومت نے مویشیوں کے لیے جدید اور مؤثر ویکسین مقامی طور پر تیار کرنے کے لیے قومی سطح کا پلانٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے لائیوسٹاک شعبے میں اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں مجوزہ ویکسین پلانٹ کے قیام کی حکمت عملی ایک ہفتے کے اندر پیش کی جائے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ فیصلہ وزیراعظم آفس کے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان میں مویشیوں کے لیے دستیاب ویکسینز کی منظوری اور معیار سے متعلق مسائل موجود ہیں اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی منظوری کے مطابق خالص اور معیاری ویکسین کی مقامی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اسی پس منظر میں حکومت نے ملکی وسائل سے قومی پلانٹ قائم کرنے کی سمت کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منصوبے کی حتمی لاگت، پیداواری صلاحیت، ٹائم لائن اور ویکسین کی اقسام سے متعلق مکمل تفصیلات ابھی حکمت عملی کی تیاری کے بعد سامنے آنا باقی ہیں۔
وزیراعظم نے لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کی تنظیم نو کی بھی ہدایت کی۔ یہ بورڈ 2007 میں مویشیوں کی افزائش، دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھانے اور شعبے کی ترقی کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ادارہ جاتی ڈھانچے کو بہتر بنا کر لائیوسٹاک سیکٹر کی پیداواری صلاحیت اور برآمدی امکانات کو بڑھایا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی دیہی معیشت میں لائیوسٹاک ایک اہم حصہ رکھتا ہے اور لاکھوں گھرانے دودھ، گوشت اور مویشی پالنے سے آمدن حاصل کرتے ہیں۔ بیماریوں کی روک تھام کے لیے قابل اعتماد ویکسین کی دستیابی پیداوار، جانوروں کی صحت اور برآمدی معیار کے لیے اہم ہوتی ہے۔ مقامی ویکسین پیداوار بڑھنے کی صورت میں درآمدی انحصار کم کرنے اور بیماریوں کے خلاف بروقت حفاظتی اقدامات میں مدد مل سکتی ہے، تاہم ان فوائد کا انحصار پلانٹ کے معیار، ریگولیٹری منظوری، پیداواری تسلسل اور ملک گیر تقسیم کے مؤثر نظام پر ہوگا۔
اجلاس میں گوشت اور ڈیری مصنوعات کی برآمدات بڑھانے پر بھی توجہ دی گئی۔ بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے لیے جانوروں کی صحت، بیماریوں کی نگرانی، ویکسینیشن، ٹریس ایبلٹی اور فوڈ سیفٹی کے معیارات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے ویکسین پلانٹ کو صرف صنعتی منصوبے کے بجائے وسیع تر لائیوسٹاک اصلاحات کے ایک جزو کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
موجودہ مرحلے پر حکومت نے پلانٹ کے قیام کا پالیسی فیصلہ اور ایک ہفتے میں حکمت عملی پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ پلانٹ کی تعمیر شروع ہونے، بجٹ مختص ہونے یا پیداوار کے آغاز کی کوئی حتمی تاریخ ابھی رپورٹ نہیں کی گئی، اس لیے ان مراحل کو مکمل شدہ پیش رفت کے طور پر بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔

