اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں جاری اصلاحات کی رفتار بڑھانے اور ٹیکس گیپ کم کرنے کے لیے فیس لیس اسیسمنٹ اور آڈٹ نظام کو تیزی سے آگے بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ ٹیکس اصلاحات سے متعلق ہفتہ وار بریفنگ میں وزیراعظم کو نئے نظام کے پائلٹ منصوبے اور ادارہ جاتی تبدیلیوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔

یہ اجلاس ان لینڈ ریونیو افسران کی تنظیم کی جانب سے قلم چھوڑ ہڑتال کی کال کے پس منظر میں ہوا۔ یہ کال بعد میں ایف بی آر کے سینئر حکام کی مداخلت کے بعد واپس لے لی گئی۔ اجلاس سے متعلق رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے اصلاحاتی عمل میں مزاحمت پر ناراضی ظاہر کی اور کہا کہ ریاستی مفاد میں شروع کی گئی تبدیلیاں جاری رہیں گی۔

ایف بی آر نے اسلام آباد میں نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کیا ہے جہاں مخصوص ونگز آڈٹ اور اسیسمنٹ کا کام ایسے نظام کے تحت کریں گے جس کا مقصد ٹیکس افسر اور ٹیکس دہندہ کے براہ راست رابطے اور انفرادی صوابدید کو کم کرنا ہے۔ پائلٹ منصوبے کے آغاز میں 27 افسران تعینات کیے گئے ہیں۔

مرکز کو تیسرے فریق سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر تین لاکھ سے چار لاکھ افراد کے معاملات مرحلہ وار جانچنے کا کام دیا گیا ہے۔ پائلٹ یکم اکتوبر سے مؤثر ہوا اور ابتدائی کمپلائنس چیکس مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ڈیٹا نیشنل فیس لیس سینٹر کو منتقل کیا جانا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹیکنالوجی پر مبنی طریقہ کار سے آڈٹ اور اسیسمنٹ میں شفافیت بڑھانے اور غیر ضروری انسانی مداخلت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

وزیراعظم سیکریٹریٹ کے سرکاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے ایف بی آر کی استعداد مسلسل بڑھانے اور ٹیکس گیپ کم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے چیئرمین ایف بی آر کو فیس لیس نظام کے نفاذ میں تیزی لانے کی ہدایت کی اور بدعنوانی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا کہا۔ ساتھ ہی ایسے افسران اور ملازمین کو اصلاح کا موقع دینے کی بات کی گئی جن کی کارکردگی اور طرز عمل میں بہتری آ رہی ہو۔

رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے دو ان لینڈ ریونیو افسران کو معطل کیا اور دو دیگر سینئر افسران کو مزید تحقیقات کے لیے ہیڈکوارٹر واپس بھیجا۔ معاملہ ایک غیر مجاز پریس بیان اور سرکاری کام معطل کرنے کی کال سے متعلق بتایا گیا ہے۔ ان انتظامی اقدامات کو کسی حتمی مجرمانہ نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا؛ یہ ادارہ جاتی کارروائی اور تحقیقات کا حصہ ہیں۔

ایف بی آر اصلاحات پاکستان کی مالی پالیسی میں اس لیے اہم ہیں کہ حکومت ٹیکس وصولیوں میں اضافے، دستاویزی معیشت کے پھیلاؤ اور ٹیکس نظام میں صوابدید کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ فیس لیس ماڈل کی عملی کامیابی کا انحصار ڈیٹا کے معیار، اپیل اور نگرانی کے مؤثر طریقہ کار، ٹیکس دہندگان کے حقوق اور افسران کی تربیت پر ہوگا۔