کراچی: مالی سال 2026-27 کے ابتدائی تقریباً 100 دن میں پاکستان کے نجی شعبے نے بینکوں سے خالص نیا قرض لینے کے بجائے 91.8 ارب روپے کے قرض واپس کیے ہیں، جس سے کاروباری سرمایہ کاری کی کمزور طلب اور معاشی غیر یقینی کی تصویر سامنے آتی ہے۔ ڈان نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یکم جولائی سے 9 اکتوبر تک نجی شعبے کی مجموعی کریڈٹ پوزیشن خالص قرض واپسی میں رہی۔
گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں نجی شعبے نے 31.7 ارب روپے کے خالص قرض واپس کیے تھے۔ اس طرح رواں مالی سال کے ابتدائی حصے میں قرض واپسی کی مقدار ایک سال پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ بینک فنانسنگ پاکستان میں کاروباری توسیع، ورکنگ کیپیٹل اور نئی سرمایہ کاری کے اہم ذرائع میں شمار ہوتی ہے، اس لیے مسلسل خالص قرض واپسی کو کاروباری اعتماد اور سرمایہ کاری کے رجحان کے ایک اہم اشارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اعداد کی تفصیل میں مختلف بینکاری شعبوں کا رجحان یکساں نہیں رہا۔ روایتی بینکوں کی اسلامی بینکاری شاخوں نے اس مدت میں نجی شعبے کو خالص 138.6 ارب روپے کا قرض دیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ رقم 63.4 ارب روپے تھی۔ اس کے برعکس اسلامی بینکوں میں 107.8 ارب روپے کی خالص قرض واپسی ریکارڈ ہوئی، جو گزشتہ سال کے 38 ارب روپے سے کہیں زیادہ ہے۔ روایتی بینکوں میں بھی 122.6 ارب روپے کی خالص قرض واپسی ہوئی، جبکہ ایک سال پہلے اسی عرصے میں 57 ارب روپے واپس کیے گئے تھے۔
یہ ابتدائی رجحان گزشتہ پورے مالی سال کی صورت حال سے مختلف ہے، جب نجی شعبے نے مجموعی طور پر تقریباً 1.46 ٹریلین روپے کے قرض لیے تھے۔ تاہم مالی سال کے آغاز میں قرض کی کم طلب اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بہت سے کاروبار نئی سرمایہ کاری یا توسیع کے فیصلوں میں محتاط ہیں۔ قرض کی لاگت، مقامی طلب، برآمدی منڈیوں کی صورتحال اور علاقائی غیر یقینی جیسے عوامل کاروباری فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ڈان کی رپورٹ میں صنعت سے وابستہ ایک نمائندے نے صارفین کی قوت خرید میں کمی، خلیجی خطے کی کشیدگی اور بیرونی منڈیوں کی غیر یقینی کو سرمایہ کاری کے لیے رکاوٹوں میں شمار کیا۔ یہ ایک کاروباری رائے ہے، جبکہ بینکاری اعداد خود صرف یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زیر جائزہ مدت میں نجی شعبے کی خالص کریڈٹ پوزیشن قرض لینے کے بجائے قرض واپس کرنے کی رہی۔
پاکستان کی معیشت حالیہ برسوں میں نسبتاً محدود شرح نمو کے ساتھ آگے بڑھی ہے، اور پائیدار تیز رفتار ترقی کے لیے نجی سرمایہ کاری میں اضافہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ اگر کاروباری قرض کی طلب طویل مدت تک کم رہتی ہے تو اس کا اثر نئی پیداواری صلاحیت، روزگار اور ٹیکس محصولات پر پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب، ابتدائی 100 دن کے اعداد پورے مالی سال کا حتمی رجحان طے نہیں کرتے؛ آنے والے مہینوں میں شرح سود، مہنگائی، توانائی کی قیمتوں، برآمدی آرڈرز اور معاشی اعتماد میں تبدیلی کے ساتھ نجی شعبے کی قرض گیری بھی بدل سکتی ہے۔

