اسلام آباد: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ایس ای فروٹس اینڈ ویجیٹیبل لمیٹڈ کے ابتدائی عوامی حصص کی پیشکش، یعنی آئی پی او، سے متعلق مالی معلومات میں سامنے آنے والے تضادات کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق کارروائی ایک گمنام شکایت کے بعد شروع ہوئی جس میں کمپنی کی آڈٹ رپورٹ اور پراسپیکٹس میں دیے گئے بعض مالی اعداد پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

شکایت 11 ستمبر کو موصول ہوئی، جو ایس ای سی پی کی جانب سے کمپنی کے پراسپیکٹس کی منظوری کے دو دن بعد کی تاریخ تھی۔ ابتدائی جائزے میں 2022 سے 2026 کے دوران ظاہر کردہ فروخت اور سیلز ٹیکس گوشواروں کے اعداد کے درمیان فرق، 2024 کے انکم ٹیکس ریٹرن میں بعض مقامی فروخت کے عدم انعکاس اور رپورٹ شدہ فروخت و بینک کریڈٹس کے درمیان فرق کی نشاندہی کی گئی۔ یہ نکات فی الحال تحقیقات کا موضوع ہیں اور انہیں حتمی خلاف ورزی یا ذمہ داری کا تعین نہیں سمجھا جا سکتا۔

کمیشن نے کمپنی، ایشو کے کنسلٹنٹ اور آڈیٹرز سے متعلقہ دستاویزات اور وضاحتیں طلب کیں۔ متعلقہ فریقوں کے ساتھ ملاقات کے بعد کمپنی نے اضافی مواد بھی فراہم کیا۔ تحقیقاتی عمل میں یہ دیکھا جائے گا کہ سامنے آنے والے فرق غلط یا نامکمل انکشافات، اکاؤنٹنگ کے طریقہ کار یا کسی دوسرے سبب کا نتیجہ تھے۔

تحقیقات کے دوران آئی پی او کا عمل معطل کیا گیا تھا، جبکہ بعد میں کمپنی نے اپنی درخواست واپس لے لی۔ اس لیے معاملہ اب صرف مجوزہ حصص فروخت تک محدود نہیں بلکہ اس پورے نگرانی کے عمل کا جائزہ بھی شامل ہے جس کے تحت پراسپیکٹس، آڈٹ شدہ مالی بیانات اور متعلقہ سرٹیفکیشن کی جانچ کی جاتی ہے۔

ایس ای سی پی کی انکوائری پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے فرنٹ لائن ریگولیٹر کی حیثیت سے کردار، ایشو کنسلٹنٹ کی ڈیو ڈیلیجنس، پراسپیکٹس کی تیاری اور اس کی درستگی کی تصدیق، اور آڈیٹر کی جانب سے مالی بیانات کے معائنے کا جائزہ لے گی۔ کمیشن اپنے داخلی طریقہ کار کو بھی دیکھے گا تاکہ معلوم ہو سکے کہ آئی پی او درخواست کی جانچ اور شکایت پر کارروائی کے دوران کوئی خلا، کوتاہی یا غفلت تو نہیں ہوئی۔

کمیشن آڈٹ اوورسائٹ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ حتمی ذمہ داری یا کسی ممکنہ ضابطہ جاتی کارروائی کا فیصلہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔ موجودہ مرحلے پر رپورٹ شدہ مالی تضادات الزامات اور زیر تحقیق نکات ہیں، ثابت شدہ خلاف ورزیاں نہیں۔