اسلام آباد میں پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی تجارت سے متعلق مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سرکاری سطح پر ہونے والی بات چیت میں دونوں ممالک نے مجوزہ باہمی تجارتی انتظام کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا اور تجارت بڑھانے کے لیے زیر التوا امور کو آگے بڑھانے پر توجہ دی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق مذاکرات میں پاکستانی زرعی مصنوعات، خصوصاً آم اور کھجور، کی امریکی منڈی تک رسائی بھی ایک اہم موضوع رہی۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے پاکستانی آم کی برآمد کے انتظامات کے لیے متعلقہ امریکی معائنہ ٹیموں کے دورے کو جلد حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس عمل کی تکمیل برآمدی اجازت اور مارکیٹ رسائی کے عملی تقاضوں سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستانی حکام نے کھجور کے لیے بھی امریکی مارکیٹ تک رسائی کے زیر التوا عمل میں پیش رفت کی خواہش ظاہر کی۔
حکام کے مطابق زرعی مصنوعات کے لیے بہتر رسائی سے پاکستانی کاشت کاروں اور برآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر بلوچستان میں کھجور کی پیداوار سے وابستہ کاروبار کے لیے امریکی منڈی تک رسائی کو ممکنہ برآمدی موقع قرار دیا گیا۔ تاہم رپورٹ میں کسی حتمی معاہدے پر دستخط یا نئی تجارتی رعایت کے فوری نفاذ کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے موجودہ پیش رفت کو مذاکراتی مرحلے میں ہونے والی پیش رفت ہی سمجھا جائے گا۔
پاکستان گزشتہ چند برسوں سے اپنی برآمدات میں تنوع اور روایتی مصنوعات سے آگے نئی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکا پاکستان کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے، اس لیے زرعی مصنوعات کے لیے قواعد، معائنہ اور تکنیکی تقاضوں کی تکمیل دوطرفہ تجارت کے حجم پر اثر ڈال سکتی ہے۔
مذاکرات کا اگلا عملی مرحلہ متعلقہ تکنیکی اور معائنہ جاتی کارروائیوں کی تکمیل سے وابستہ ہوگا۔ دونوں ملکوں کے درمیان زیر بحث تجارتی فریم ورک کی حتمی نوعیت، محصولات یا دیگر مراعات کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی اس کے مجموعی اقتصادی اثرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے گا۔ فی الحال حکام نے بات چیت میں نمایاں پیش رفت اور زرعی مارکیٹ رسائی کے معاملات کو تیز کرنے پر زور دیا ہے۔

