پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار کی مالی سال 2025-26 کے لیے شرح نمو پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے 3.65 فیصد قرار دیا گیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے قومی اکاؤنٹس کمیٹی کے تازہ تخمینے سابقہ 3.70 فیصد شرح سے معمولی کمی ظاہر کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار قومی اکاؤنٹس کمیٹی کے 118ویں اجلاس میں زیر غور آئے۔

تازہ تخمینوں میں معیشت کے تین بڑے شعبوں کی کارکردگی بھی دوبارہ متعین کی گئی ہے۔ زراعت کی شرح نمو 3.50 فیصد، صنعت کی 3.34 فیصد اور خدمات کی 3.81 فیصد بتائی گئی۔ اس سے پہلے متعلقہ تخمینے بالترتیب 2.89 فیصد، 3.51 فیصد اور 4.09 فیصد تھے۔ یوں نظرثانی میں زرعی شعبے کی کارکردگی بہتر دکھائی گئی، جبکہ صنعت اور خدمات کے تخمینوں میں کمی آئی۔

زرعی شعبے کے اندر اہم فصلوں کی شرح نمو 0.65 فیصد سے بڑھا کر 1.59 فیصد کی گئی، جس میں گندم اور مکئی کی پیداوار کا کردار بتایا گیا۔ دیگر فصلوں کی شرح نمو بھی 2.43 فیصد سے بڑھ کر 4.28 فیصد تخمینہ کی گئی۔ رپورٹ میں دالوں، پھلوں، ٹماٹر، تیل دار بیجوں اور سبز چارے کی پیداوار میں بہتری کا حوالہ دیا گیا ہے۔

قومی اکاؤنٹس کے اعداد و شمار وقت کے ساتھ مزید معلومات، پیداوار کے حتمی تخمینوں اور شعبہ جاتی ڈیٹا کی دستیابی کے بعد نظرثانی سے گزرتے ہیں۔ اس لیے 3.65 فیصد کی تازہ شرح کو پہلے جاری 3.70 فیصد تخمینے کی اپ ڈیٹ سمجھا جانا چاہیے۔ معمولی عددی فرق کے باوجود شعبہ جاتی تبدیلیاں یہ دکھاتی ہیں کہ مجموعی نمو کے اندر زراعت، صنعت اور خدمات کی شراکت کے بارے میں تصویر تبدیل ہوئی ہے۔

بزنس ریکارڈر نے قومی اکاؤنٹس کمیٹی کے حوالے سے پاکستان کی معیشت کا حجم تقریباً 450 ارب ڈالر تک پہنچنے کی اطلاع بھی دی۔ ڈالر میں معیشت کے حجم کا اندازہ شرح مبادلہ اور قومی کھاتوں کے نامیاتی اعداد سے متاثر ہوتا ہے، جبکہ حقیقی جی ڈی پی نمو قیمتوں کے اثرات نکال کر معاشی سرگرمی کی مقدار میں تبدیلی کی پیمائش کرتی ہے۔ اس لیے دونوں اعداد کو ایک ہی پیمانہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

تازہ نظرثانی پالیسی سازوں، سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں کے لیے اہم ہے کیونکہ مالی سال کی حتمی معاشی کارکردگی بجٹ، ٹیکس وصولیوں، روزگار، سرمایہ کاری اور آئندہ سال کی منصوبہ بندی کے تناظر میں استعمال ہوتی ہے۔ تاہم یہ اعداد کسی ایک شعبے کی مکمل صحت یا گھرانوں کی آمدنی کی کیفیت کا براہ راست پیمانہ نہیں؛ اس کے لیے مہنگائی، روزگار، حقیقی اجرت اور سرمایہ کاری سمیت دیگر اشاریوں کو بھی ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔