لاہور: پنجاب حکومت نے پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام (PDP) پر عملی کام 25 اکتوبر 2026 سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق یہ فیصلہ صوبائی وزیر بلدیات زیشان رفیق کی زیر صدارت جائزہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں محکمہ بلدیات اور پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ کمپنی کے سینئر حکام نے پروگرام کی پیش رفت، منظوریوں اور عمل درآمد کے اہداف کا جائزہ لیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل 52 شہروں میں سے 51 کے پی سی ون منظور کیے جا چکے ہیں، جبکہ ایک پی سی ون صوبائی ورکنگ پارٹی کے زیرِ غور ہے۔ صوبائی وزیر کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس پروگرام کے لیے 304 ارب روپے کی منظوری دی ہے اور پہلے مرحلے کو 18 سے 24 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق یہ ایک وسیع بلدیاتی ترقیاتی پروگرام ہے جس میں مختلف شہری انفراسٹرکچر اسکیموں پر کام کیا جانا ہے۔
اجلاس میں پروگرام کی نگرانی کے لیے جامع ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس نظام کے تحت اسسٹنٹ پراجیکٹ ڈائریکٹرز اور میونسپل افسران انفراسٹرکچر اسکیموں کی فیلڈ نگرانی کے ذمہ دار ہوں گے۔ حکام کے مطابق موبائل فون سے لی جانے والی فیلڈ وزٹس کی تصاویر مرکزی ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ کی جائیں گی تاکہ پیش رفت کا ریکارڈ حقیقی وقت کے قریب بنیاد پر دستیاب ہو اور منصوبوں میں تاخیر یا معیار سے متعلق مسائل جلد سامنے آ سکیں۔
صوبائی وزیر نے پروگرام کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹینڈرنگ اور عمل درآمد میں شفافیت برقرار رکھی جائے گی۔ اجلاس میں گجرات اور وزیرآباد میں برساتی نالوں سے ہونے والے نقصانات کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ کاموں کے لیے شفاف اور تیز رفتار ٹینڈرنگ کی ہدایت دی گئی۔ یہ ہدایات خاص طور پر اہم ہیں کیونکہ شہری نکاسی آب اور بارشوں سے پیدا ہونے والے مسائل پنجاب کے کئی شہروں میں بنیادی بلدیاتی چیلنج بن چکے ہیں۔
پروگرام کی مجموعی مالیت اور شہروں کی تعداد اسے پنجاب کی بڑی بلدیاتی ترقیاتی اسکیموں میں شامل کرتی ہے، تاہم اس مرحلے پر ہر شہر کے منصوبوں کی مکمل فہرست، شہر وار مالی تقسیم اور تعمیراتی معاہدوں کی تفصیلات عوامی طور پر دستیاب نہیں۔ اس لیے پروگرام کی حقیقی پیش رفت کا اندازہ ٹینڈرز کے اجرا، سائٹ پر کام کے آغاز، مختص رقوم کے استعمال اور ڈیجیٹل ڈیش بورڈ پر سامنے آنے والے نتائج سے ہوگا۔
25 اکتوبر کی مقررہ تاریخ انتظامی منظوری سے عملی تعمیراتی مرحلے کی طرف منتقلی کی علامت ہوگی۔ اگر منصوبے مقررہ 18 سے 24 ماہ کی مدت میں مکمل کرنے ہیں تو ٹھیکوں، تکنیکی منظوریوں، زمین سے متعلق معاملات اور مقامی اداروں کے باہمی رابطے کو ابتدائی مرحلے ہی میں مؤثر بنانا ضروری ہوگا۔ سرکاری موقف کے مطابق پروگرام کا مقصد شہری سہولیات میں بہتری اور بلدیاتی انفراسٹرکچر کی خامیوں کو دور کرنا ہے۔

