پنجاب حکومت نے صوبے میں کام کرنے والی باغبانی ایجنسیوں کی آمدن وصولی کا عمل ڈیجیٹل بنانے کی ہدایت کردی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق صوبائی وزیر ہاؤسنگ و شہری ترقی بلال یاسین نے 4 ستمبر 2026 کو باغبانی اداروں کی کارکردگی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے کہا کہ ریونیو جمع کرنے کے موجودہ طریقوں کو ڈیجیٹل نظام میں منتقل کیا جائے۔ یہ انتظامی ہدایت ہے؛ خبر میں کسی نئے پورٹل کے آغاز، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ادارے، بجٹ یا نفاذ کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔

اجلاس میں پنجاب کے سیکریٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل اور پارکس اینڈ ہارٹیکلچر ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل احمد عثمان جاوید بھی شریک ہوئے۔ وزیر کو بتایا گیا کہ صوبے بھر میں 20 باغبانی ایجنسیاں تقریباً 6,500 ایکڑ سبز علاقوں کا انتظام کرتی ہیں۔ ان میں پارکس، گرین بیلٹس اور دیگر شہری سبز مقامات شامل ہوسکتے ہیں، تاہم سرکاری بریفنگ میں ہر ایجنسی کے زیر انتظام رقبے، آمدن یا اخراجات کی الگ تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

بلال یاسین نے کہا کہ باغبانی اداروں سے حاصل ہونے والی آمدن بڑھانے کی نمایاں گنجائش موجود ہے۔ ڈیجیٹل وصولی کا مقصد ریکارڈ کو زیادہ منظم، قابلِ جانچ اور بروقت بنانا ہوسکتا ہے، مگر جاری بیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ کن فیسوں، لائسنسوں، اشتہارات، پارک سہولتوں یا دوسرے ذرائع کو پہلے مرحلے میں نظام میں شامل کیا جائے گا۔ اسی لیے کسی متوقع اضافی آمدن، رساو میں کمی یا ہدفی شرح کا دعویٰ ابھی ممکن نہیں۔

وزیر نے صوبے کی نرسریوں کا معیار بہتر بنانے، سبز مقامات کی دیکھ بھال اور خوبصورتی کے کام میں بہتری لانے کی ہدایت بھی دی۔ روایتی باغبانی اور آرائش کے طریقوں کو جدید، مشینری پر مبنی نظام سے تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی گئی تاکہ کارکردگی اور کام کا معیار بہتر کیا جاسکے۔ یہ تجویز مشینری کی فوری خریداری یا کسی معاہدے کی منظوری نہیں؛ اس کے لیے ضرورت کا تعین، مالی منظوری اور خریداری کے ضابطوں کے الگ مراحل درکار ہوں گے۔

اجلاس میں پارک میپنگ اور مشینری ٹریکنگ کے نظام مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ پارک میپنگ سے اداروں کو زیر انتظام رقبے، سہولتوں اور دیکھ بھال کی ضرورت کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ مشینری ٹریکنگ سے سرکاری آلات کے استعمال، مقام اور دستیابی کی نگرانی آسان ہوسکتی ہے۔ تاہم خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ موجودہ نظام کس حد تک فعال ہیں، کون سا ڈیجیٹل پلیٹ فارم استعمال ہوگا یا ڈیٹا عوام کے لیے دستیاب کیا جائے گا۔

فوڈ اسٹریٹس اور تفریحی سہولتوں کو بہتر بنانے کی ہدایت بھی اجلاس کے فیصلوں میں شامل تھی۔ ان سرگرمیوں کا تعلق شہری سہولت، سیاحت اور باغبانی اداروں کی ممکنہ آمدن سے ہوسکتا ہے، لیکن کسی خاص شہر، پارک یا فوڈ اسٹریٹ کے منصوبے، لاگت اور تکمیل کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو صوبہ بھر کے اداروں کے لیے انتظامی ترجیحات اور اصلاحاتی سمت کے طور پر دیکھا جائے گا۔

پنجاب کے شہری سبز علاقوں کی دیکھ بھال صرف آرائش تک محدود نہیں ہوتی بلکہ درختوں، نرسریوں، عوامی پارکس، پیدل راستوں، روشنی، صفائی، پانی کے استعمال اور تفریحی سہولتوں کی مسلسل نگرانی بھی درکار ہوتی ہے۔ ڈیجیٹل مالی ریکارڈ اور اثاثہ جاتی نقشہ بندی اس انتظام کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے، مگر حقیقی نتیجہ نظام کے دائرے، ڈیٹا کے معیار، عملے کی تربیت اور باقاعدہ آڈٹ سے وابستہ ہوگا۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت ریونیو وصولی ڈیجیٹل بنانے، 20 ایجنسیوں کے تقریباً 6,500 ایکڑ سبز رقبے کی دیکھ بھال بہتر کرنے، نرسریوں کا معیار بلند کرنے اور پارک میپنگ و مشینری ٹریکنگ مضبوط بنانے کی صوبائی ہدایت ہے۔ منصوبوں کی عملی تکمیل اور مالی اثر کا اندازہ آئندہ نفاذی احکامات اور قابلِ پیمائش اعداد سے ہوگا۔