لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں کھلی جگہوں پر ڈرون اڑانے پر 30 روز کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔ پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ حکم کے مطابق یہ پابندی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144(6) کے تحت نافذ کی گئی ہے اور اس کا مقصد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر عوامی سلامتی، امن و امان اور جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

حکم کے تحت پنجاب کے تمام اضلاع میں آؤٹ ڈور ڈرون آپریشن عمومی طور پر ممنوع رہے گا۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تاہم شادی ہالز، مارکیز اور دیگر بند مقامات کے اندر تقریبات کی محدود کوریج کے لیے چھوٹے ڈرون استعمال کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری متعلقہ منتظمین قبول کریں۔

پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے سرکاری فرائض کے لیے اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ بعض مخصوص مقاصد، جن میں تحقیق اور متعلقہ مجاز سرگرمیاں شامل ہیں، کے لیے تحریری اجازت حاصل کی جا سکے گی۔ اس مقصد کے لیے ضلعی سطح پر سیف ڈرون یوزیج کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جو درخواستوں کا جائزہ لے کر منظوری دے سکتی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق زرعی اور آبپاشی سے متعلق مخصوص ڈرون استعمال بھی تحریری اجازت سے ممکن ہوگا۔

یہ پابندی پنجاب میں ڈرون کے استعمال پر پہلے سے جاری سکیورٹی پابندیوں کے تسلسل کا حصہ ہے۔ رواں سال مختلف اوقات میں صوبائی حکومت آؤٹ ڈور ڈرون پر اسی نوعیت کی پابندیاں نافذ یا توسیع کرتی رہی ہے۔ تازہ حکم 29 ستمبر کو سامنے آیا اور اس میں دوبارہ واضح کیا گیا کہ کھلی جگہ پر ڈرون اڑانے کے لیے عمومی اجازت نہیں ہوگی جب تک متعلقہ مجاز فورم سے مخصوص منظوری نہ لی جائے۔

ڈرون استعمال کرنے والے فوٹوگرافرز، کاروباری اداروں، زرعی آپریٹرز اور تحقیقی تنظیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی آؤٹ ڈور آپریشن سے پہلے مقامی انتظامیہ اور متعلقہ سیف ڈرون یوزیج کمیٹی سے اجازت کے تقاضے معلوم کریں۔ پابندی کی خلاف ورزی پر کارروائی کا انحصار متعلقہ قانونی دفعات اور انتظامی حکم کے نفاذ پر ہوگا۔