لاہور: سیٹلائٹ ڈیٹا پر مبنی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یکم سے 29 اکتوبر 2026 کے دوران پاکستانی پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانے سے متعلق آگ کے مقامات کی تعداد بھارتی پنجاب کے مقابلے میں تقریباً 4.2 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں اوکاڑہ سب سے نمایاں ضلع رہا جہاں 2,144 فائر اسپاٹس کی نشاندہی ہوئی، اس کے بعد گوجرانوالہ میں 1,011 اور ننکانہ صاحب میں 1,003 مقامات ریکارڈ کیے گئے۔
یہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پنجاب کے مختلف شہروں میں موسم خزاں اور سردیوں کے آغاز پر فضائی آلودگی اور اسموگ ایک اہم صحت و ماحولیاتی مسئلہ بن جاتے ہیں۔ فصلوں کی باقیات کو آگ لگانا فضائی آلودگی کے متعدد ذرائع میں سے ایک ہے؛ اس کے ساتھ گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج، اینٹوں کے بھٹے، تعمیراتی گرد اور موسمی حالات بھی فضا میں آلودہ ذرات کے ارتکاز پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں سیٹلائٹ کے ذریعے شناخت کیے گئے فائر اسپاٹس کو دونوں جانب کے پنجاب میں زرعی آگ کی سرگرمی کا تقابلی اشاریہ بنایا گیا ہے۔ تاہم سیٹلائٹ فائر ڈیٹیکشن کو براہ راست فضائی آلودگی کے مکمل بوجھ یا کسی شہر کی اسموگ کا واحد سبب نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ ہوا کی سمت، درجہ حرارت، نمی اور مقامی اخراج بھی فضائی معیار پر نمایاں اثر ڈالتے ہیں۔
اوکاڑہ میں سب سے زیادہ نشاندہی خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ زرعی پیداوار کا بڑا علاقہ ہے۔ گوجرانوالہ اور ننکانہ صاحب میں بھی بڑی تعداد میں فائر اسپاٹس ریکارڈ ہونے سے فصلوں کی باقیات کے انتظام، کسانوں کو متبادل مشینری کی فراہمی اور مقامی سطح پر نفاذ کے اقدامات کی مؤثریت سے متعلق سوالات اٹھتے ہیں۔
پنجاب حکومت حالیہ برسوں میں فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف جرمانوں، نگرانی، آگ بجھانے کی کارروائیوں اور زرعی مشینری کے فروغ سمیت مختلف اقدامات کرتی رہی ہے۔ تازہ رپورٹ یہ اشارہ دیتی ہے کہ صرف پابندی کافی نہیں اور فصلوں کی کٹائی کے بعد باقیات کو معاشی طور پر قابل عمل طریقے سے ٹھکانے لگانے یا دوبارہ استعمال کرنے کے لیے کسانوں کو عملی متبادل دینا بھی ضروری ہے۔
رپورٹ کے اعداد و شمار ایک مخصوص مدت اور سیٹلائٹ مشاہدات پر مبنی ہیں، اس لیے انہیں پورے اسموگ سیزن کا حتمی نتیجہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اس کے باوجود پاکستانی پنجاب اور بھارتی پنجاب کے درمیان رپورٹ کردہ فرق علاقائی فضائی آلودگی کی بحث میں مقامی اخراج اور زرعی آگ کے کردار کا ازسرنو جائزہ لینے کے لیے اہم ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔
