راولپنڈی: پنجاب حکومت نے شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو انسانی جانوں، مویشیوں، خالی کرائے گئے گھروں اور اہم سرکاری و عوامی تنصیبات کے تحفظ کے لیے تفصیلی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ پولیس کو متاثرہ یا جزوی طور پر خالی کرائے گئے علاقوں میں مؤثر گشت، بروقت انخلا میں معاونت اور ہنگامی حالات میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
ہدایات کے تحت پولیس کو چوری، لوٹ مار، نقب زنی، مویشی چوری، ڈکیتی، ہراسانی، دھوکا دہی، خالی گھروں پر غیر قانونی قبضے اور متاثرہ خاندانوں کے استحصال کی کوششیں روکنے کے لیے پیشگی اقدامات کرنا ہوں گے۔ بیراجوں، پلوں، پشتوں، گرڈ اسٹیشنوں، ہسپتالوں، تھانوں، سرکاری عمارتوں، گوداموں، مواصلاتی ٹاورز اور پانی کی فراہمی کی اسکیموں سمیت اہم بنیادی ڈھانچے کے حساس مقامات کی نشاندہی اور سکیورٹی بھی لازم قرار دی گئی ہے۔
ہر ضلع میں وائرلیس، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولت رکھنے والے پولیس کنٹرول روم قائم کیے جائیں گے، جو سیلابی الرٹ کے دوران چوبیس گھنٹے کام کریں گے۔ ان کنٹرول رومز کے پاس متعلقہ اداروں کے تازہ رابطہ نمبرز ہوں گے اور ان کا کام معلومات وصول کرنا، ان کی تصدیق کرنا اور فوری طور پر متعلقہ حکام تک پہنچانا ہوگا۔ محکمہ آبپاشی کے کنٹرول رومز اور وائرلیس نظام کو پولیس کے رابطہ مراکز سے منسلک کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے تاکہ پانی کی سطح، ممکنہ شگاف، متوقع بہاؤ اور خطرناک مقامات سے متعلق اطلاع بروقت مل سکے۔
دریاؤں، نہروں، برساتی نالوں، پہاڑی ریلوں اور نشیبی علاقوں کے قریب واقع تھانوں کو خطرے سے دوچار آبادیوں اور مقامات کی فہرست تیار کرکے ان کا عملی معائنہ کرنا ہوگا۔ ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز محکمہ مال اور آبپاشی کے عملے کے ساتھ مل کر زمینی خطرات، انخلا کی ضرورت اور دستیاب سامان کا جائزہ لیں گے۔
کشتیوں، لائف جیکٹس، رسیوں، سرچ لائٹس، برساتی لباس، ابتدائی طبی امداد کے سامان، گاڑیوں، بلڈوزروں، کھدائی کی مشینوں، جنریٹرز اور مواصلاتی آلات کو پیشگی جانچ کر قابلِ استعمال حالت میں رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خراب یا پرانے آلات کی مرمت یا تبدیلی اور تربیت یافتہ کشتی بانوں، ڈرائیوروں، وائرلیس آپریٹرز، ریسکیو معاونین اور اضافی نفری کی ضرورت پہلے سے طے کی جائے گی۔
ضلعی پولیس شہری انتظامیہ کو انخلا میں مدد دے گی اور خواتین، بچوں، بزرگوں، معذور افراد، مریضوں اور مویشی پالنے والوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انخلا کے راستے کھلے اور محفوظ رکھے جائیں گے۔ پولیس امدادی سامان کی نقل و حمل، ذخیرہ اور تقسیم کے دوران سکیورٹی فراہم کرے گی اور ریسکیو، صحت، لائیوسٹاک و انتظامی ٹیموں اور پشتوں کی حفاظت پر مامور مشینری کو بھی تحفظ دے گی۔
ضروری عملے کی چھٹی صرف انتہائی ہنگامی حالت میں منظور کرنے اور پولیس ریزرو کو خطرناک مقامات، ریلیف کیمپوں اور انخلا کے راستوں کے لیے تیار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈویژنل پولیس سربراہ تیاریوں کی ذاتی نگرانی کریں گے، جبکہ ضلعی افسران کو حساس مقامات اور ریلیف کیمپوں کے انتظامات کی عملی تصدیق کرنا ہوگی۔




