لاہور: پنجاب پولیس کی اعلیٰ کمان نے محکمے کی انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ (آئی اے بی) کو پولیس اہلکاروں اور افسران کے خلاف بدعنوانی و محکمانہ بے ضابطگیوں کی شکایات میں مرکزی کردار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عبد الکریم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں آئی اے بی کی تنظیم نو، اختیارات بڑھانے اور انکوائریوں کو متعلقہ اضلاع کے اثر سے الگ رکھنے سے متعلق متعدد انتظامی منظوریوں پر اتفاق کیا گیا۔

اجلاس میں طے کیا گیا کہ سب انسپکٹر سے لے کر اعلیٰ عہدوں تک کے افسران کے خلاف موصول ہونے والی بدعنوانی یا بدعنوان طرزِ عمل کی شکایات کا روزانہ جائزہ آئی اے بی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کی سطح پر لیا جائے گا۔ ایسے الزامات کی انکوائری علاقائی آئی اے بی کے سپرنٹنڈنٹس آف پولیس ذاتی طور پر کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق ماضی میں بعض شکایات متعلقہ ضلع یا ریجن کو واپس بھیج دی جاتی تھیں، لیکن نئی پالیسی کے تحت حساس انکوائریاں انہی مقامی انتظامی اکائیوں کو واپس نہ بھیجنے کا فیصلہ ہوا ہے۔

پولیس قیادت کا مؤقف ہے کہ شکایت والے ہی ضلع یا ریجن میں انکوائری ہونے سے اثراندازی یا مفادات کے ٹکراؤ کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ مرکزی یا علاقائی داخلی احتساب افسر کے ذریعے جانچ کا مقصد اس خطرے کو کم کرنا بتایا گیا ہے۔ تاہم شکایت موصول ہونا یا انکوائری شروع ہونا کسی اہلکار کے قصوروار ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ محکمانہ سزا، معطلی، تنزلی یا فوجداری کارروائی کے لیے شواہد، متعلقہ قواعد اور صفائی کا موقع دینا ضروری ہوگا۔

اجلاس میں ان شکایات کو دوبارہ کھولنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جو صرف اس بنیاد پر نمٹا دی گئی تھیں کہ شکایت کنندہ مزید پیروی پر آمادہ نہیں۔ آئی جی نے ہدایت کی کہ جہاں ضرورت ہو وہاں نئی انکوائری کی جائے۔ تفتیشی عمل سے متعلق شکایات ایس پی رینک کے افسر کو بھیجی جائیں گی، جبکہ آئی اے بی کا ڈی آئی جی انکوائری کے نتیجے میں شروع ہونے والی محکمانہ کارروائی کی پیش رفت کی نگرانی کرے گا۔ ضرورت پڑنے پر بعض معاملات کا جائزہ سنٹرل پولیس آفس میں بھی لیا جا سکے گا۔

ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے کے لیے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل انکوائریز کا عہدہ بحال کرنے اور آئی اے بی میں علاقائی ایس پیز اور ڈی ایس پیز کی خالی آسامیوں کو ترجیحی بنیاد پر پُر کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ اجلاس میں برانچ کے لیے مناسب فنڈز اور اضافی بجٹ فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ اس کی مالی اور انتظامی خودمختاری بڑھائی جا سکے۔ ان فیصلوں کے عملی اثر کا انحصار تقرریوں، بجٹ کے اجرا، انکوائریوں کے معیار اور فیصلوں پر مستقل عمل درآمد سے ہوگا۔

آئی جی نے کہا کہ اسپیشل برانچ سے ملنے والی معلومات بھی احتسابی عمل میں استعمال کی جائیں گی تاکہ بدعنوانی اور محکمانہ بے قاعدگیوں سے متعلق شکایات کی جانچ زیادہ مؤثر بنائی جا سکے۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی اور ڈی آئی جی سطح کے متعدد افسران نے شرکت کی۔ یہ پیش رفت وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے پولیس محکمے سے مبینہ بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی کی حالیہ ہدایات کے بعد سامنے آئی ہے۔

نئی پالیسی کا اعلان خود بخود تمام زیر التوا شکایات کا نتیجہ طے نہیں کرتا۔ ہر کیس کی نوعیت، دستیاب ریکارڈ، گواہوں اور ملزم افسر کے جواب کی بنیاد پر الگ انکوائری ہوگی۔ آئندہ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آئی اے بی کتنی شکایات دوبارہ کھولتی ہے، انکوائریاں کتنے عرصے میں مکمل ہوتی ہیں اور ثابت شدہ بے ضابطگیوں پر کتنی محکمانہ یا قانونی کارروائی ہوتی ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ انتظامی فیصلہ آئی اے بی کو زیادہ بااختیار بنانا، مقامی اثر سے انکوائریاں الگ کرنا اور خالی عہدوں و مالی وسائل کی کمی دور کرنا ہے۔